.

ایران میں ریٹائرڈ ملازمین کو تنخواہ کے بدلے سافٹ ڈرنکس پکڑا دی گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں اقتصادی بحران نے بالخصوص رواں سال 8 مئی کو جوہری معاہدے سے امریکا کے علاحدہ ہونے اور تہران پر دوبارہ سے پابندیاں عائد ہونے کے بعد مختلف صنعتی اور مالیاتی شعبوں پر کاری ضرب لگائی ہے۔

اس بحران کے نتیجے میں بعض دل چسپ اور حیرت انگیز زاویے بھی سامنے آئے ہیں۔ اسی حوالے سے سافٹ ڈرنک تیار کرنے والی ایک بڑی کمپنی "زمزم" کا نام بھی سامنے آیا ہے جس نے جرجان شہر میں اپنے ریٹائرڈ ملازمین کو تنخواہ کے بدلے سافٹ ڈرنکس دے دیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی اِلنا نے جرجان شہر میں ریٹائرڈ افراد کی انجمن کے سکریٹری کے حوالے سے بتایا ہے کہ زمزم سافٹ ڈرنک کمپنی کے زیرِ گردش سرمائے کی سطح میں کمی کے پیشِ نظر کمپنی کو کئی مشکلات درپیش ہیں۔ ان میں ورکرز کی تاخیر شدہ اجرتوں کا مسئلہ بھی شامل ہے۔

نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کو تںخواہ کے بدلے کمپنی کی سافٹ ڈرنکس دی جا رہی ہیں تا کہ وہ شہر میں ان کو فروخت کر کے مالی رقم حاصل کر لیں۔ مذکورہ افراد اپنی گاڑیوں میں سافٹ ڈرنکس رکھ کر شہر کی سڑکوں پر انہیں فروخت کرتے پھر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ زمزم کمپنی ایک غیر سرکاری کمپنی ہے اور یہ ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے زیر نگرانی چل رہی ہے۔ زمزم کمپنی کے ایک ذمّے دار کے مطابق ایران کے کئی شہروں میں کمپنی کی مصنوعات کی فروخت میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔

زمزم کمپنی ایران میں سافٹ ڈرنک تیار کرنے والی سب سے بڑی کمپنی شمار ہوتی ہے۔ اس کی ذیلی کمپنیوں کی تعداد 16 ہے۔ اس کمپنی کو 1954ء میں "پیپسی کولا" کمپنی نے قائم کیا تھا۔ تاہم 1979ء میں ایرانی انقلاب کے بعد اس کو قومیا لیا گیا اور اسے زمزم کمپنی کا نام دے دیا گیا۔