.

خاشقجی کی موت پر پردہ ڈالنے والے 18 افراد زیر حراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ ڈھائی ہفتوں سے افواہوں کا بازار گرم رہنے کے بعد آخرکار سعودی عرب نے اپنے صحافی شہری جمال خاشقجی کی گمشدگی کے حوالے سے جاری بحث کو فیصلہ کن انجام تک پہنچا دیا۔ ہفتے کی صبح سعودی پراسیکیوشن نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ خاشقجی استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر کئی لوگوں کے ساتھ جھگڑے اور ہاتھا پائی کے بعد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

سعودی ذریعے کے مطابق خاشقجی کی مملکت واپسی کے امکان کے اشارے سامنے آنے کے بعد بعض افراد نے قونصل خانے میں سعودی صحافی سے ملاقات کی۔ ذریعے نے مزید بتایا کہ اس معاملے کے حوالے سے 18 سعودی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

سعودی عرب کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان نے قونصل خانے میں خاشقجی کی موت پر پردہ ڈالا اور قونصل خانے میں اُن کی موجودگی سے انکار کیا۔ ان افراد نے ریاض میں سعودی حکام کو یہ بتایا کہ سعودی صحافی بحفاظت قونصل خانے سے جا چکے تا کہ خود کو ذمّے دار ٹھہرانے سے بچا جا سکے۔

اس سلسلے میں سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سے مطلع ایک شخص نے تصدیق کی ہے کہ مذکورہ کارروائی کے لیے کرنل ماہر مطرب کو چُنا گیا تھا کیوں کہ وہ لندن مین سعودی صحافی کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ اسی ذریعے نے بتایا ہے کہ سعودی قونصل خانے کا ڈرائیور اُن افراد میں شامل ہے جنہوں نے خاشقجی کی لاش کو مقامی معاون کے حوالے کی۔

واضح رہے کہ سعودی پراسیکیوشن کے دفتر نے باور کرایا ہے کہ خاشقجی کے کیس میں اُس کی تحقیقات 18 زیر حراست افراد کے ساتھ جاری ہے تا کہ تمام تر حقائق تک پہنچ کر اُن کا اعلان کیا جا سکے۔ پراسیکیوشن کے مطابق تمام ملوث افراد کا کڑا احتساب کیا جائے گا اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں پہنچایا جائے گا۔