حوثیوں کی قید میں موجود شہریوں سے غیر انسانی سلوک کے نئے شواہد

'قیدیوں پرسانپ چھوڑے جاتے، جلایا جاتا اور سوئیاں چبھوئی جاتی ہیں'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی شدت پسندوں کے حراست میں موجود قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی برتائو کے نئے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق یمن میں حوثیوں نے 950 شہریوں کوعقوبت خانوں میں‌ ڈال رکھا ہے جنہیں بدترین اذیتیں دی جاتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ رپورٹ یمن میں جبری طور پر لاپتا کئے گئے اہل خانہ کی طرف سے جاری کی گئی ہے جس میں قیدیوں پر تشدد کے نئے وحشیانہ حربوں کے شواہد بھی شامل کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حوثیوں کی جیلوں میں حراست میں لیے گئے 128 شہریوں کو وحشیانہ طریقوں سے قتل کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے 71 کو مسلسل تشدد اور اذیتیں دی گئیں اور موت تک انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا جب کہ 48 کو پھانسی اور دیگر طریقوں سے قتل کردیا گیا۔

تشدد کا شکار شہریوں کی سب سے زیادہ تعداد صنعاء سے ہےجہاں سے 144 شہریوں کو حراست میں لیا گیا اور انہیں غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ الحدیدہ سے 122، اِب سے 88، ذمار سے 87، تعز سے80 اور عدن سے 35 یمنی شہریوں کو اغواء کیا گیا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حوثی دہشت گردوں کے عقوبت خانوں میں قید کیے گئے شہریوں پر بدترین تشدد اور اذیتوں کے خطرناک حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ قیدیوں کو سلگتے سیگریٹ سے داغا جاتا، نازک اعضاء پر سوئیاں چبھوئی جاتی اور ہاتھ پائوں باندھ کر ان پر سانپ چھوڑے جاتے ہیں۔ کئی قیدی ذیابیطس کے مریض بھی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں