شام سے ایرانی ملیشیا کی بے دخلی کے لیے امریکا کا نیا منصوبہ تیار

’امریکا شام میں ایرانی فورسز کے خلاف براہ راست نہیں الجھنا چاہتا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ٹی وی چینل "این بی سی نیوز" نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے شام سے ایرانی فورسز کے انخلاء کا ایک نیا منصوبہ تیار کیا ہے۔

ٹی وی چینل نے پانچ امریکی عہدیداروں کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکا شام میں براہ راست ایرانی ملیشیا پر حملے نہیں کرے گا۔

واشنگٹن کے اس نئے تزویراتی منصوبے کے تحت امریکی فوج شام میں ایرانی ملیشیائوں سے براہ راست لڑنے سے گریز کی پالیسی پر عمل کرنا چاہتی ہے۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ امریکا کے لیے شام میں اپنی فوج میں اضافہ کرنا بہت مشکل ہے۔ سنہ 2001ء میں امریکی کانگریس نے ایک بل منظور کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکا بیرون ملک صرف اس تنظیم کے خلاف کارروائی کرنے کا مجاز ہے جو نائن الیون کے حملوں میں ملوث ہو۔

منصوبے کے تحت امریکا شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے گا مگر ایرانی ملیشیا کو شام سےنکالنے کے لیے سفارتی اور اقتصادی دبائو کا حربہ استعمال کرے گا۔

امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے شام میں چار اہم اہداف ہیں، جن میں داعش کو نشانہ بنانا،بشار الاسد کو کیمیائی اسلحہ کے حصول اور اس کے استعمال سے روکنا، شام میں سیاسی انتقال اقتدار میں مدد کرنا اور شام میں ایران کے اثرو نفوذ کو کم کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں