.

جبلِ شدا : سعودی عرب میں 3000 سال پرانی تاریخ کا حامل آثاریاتی پہاڑ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں الباحہ صوبے کے ضلعے المخواہ میں واقع "زیریں جبلِ شدا" مملکت کے خوب صورت ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی منفرد ارضیاتی تشکیل ، غار اور قوم ثمود کے زمانے کے نقش و نگار اور تحریریں 3 ہزار سال پرانی تاریخ سے وابستہ ہیں۔

جبل شدا کی رسوبی چٹانیں اسے دیگر پہاڑوں کے مقابلے میں امتیازی حیثیت عطا کرتی ہیں۔

زمانے کے ساتھ قدرتی عناصر کے عمل نے اس پہاڑ کی چٹانوں کو منفرد اور عجیب صورتوں کا حامل بنا دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ حیوانات یا انسانوں یا پرندوں سے ملتی جلتی نظر آتی ہیں اور بعض مرتبہ بالکل غیر مانوس ہیئت پیش کرتی ہیں۔

اس پہاڑ کے غاروں میں موجود نقش ونگار اور ثمودی دور کی قدیم تحریریں اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ غار پرانے وقتوں میں ہزاروں سال سے انسان کا مسکن رہے ہیں۔

تاریخی محقق اور میڈیا پرسن ناصر الشدوی نے انکشاف کیا ہے کہ یہ پہاڑ (زیریں جبلِ شدا) جو کہ ایک امتیازی تاریخی مقام ہے ،،، دنیا کے مختلف ممالک کے سیاحوں اور ارضیاتی محققین کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔ لاکھوں برس کے دوران شکست و ریخت اور بُردگی کے عوامل نے اس کی چٹانوں اور غاروں کو مختلف شکلیں دے دی ہیں جن میں کُروی، مستطیل اور بیضوی شامل ہیں۔ زیریں جبلِ شدا پر چٹانوں کی بہتات ہے اور ہر چٹان کا حجم دوسری چٹان سے مختلف ہے۔