.

حزب اللہ نے لبنانی علاقے میں این جی او کے پردے میں چوکی قائم کردی : اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ پر سرحدی علاقے میں ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او کے پردے میں ایک نئی مشاہداتی چوکی قائم کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کےا یک اعلیٰ افسر نے الزام عاید کیا ہے کہ حزب اللہ نے لبنان کے جنوب میں واقع شیعہ اکثریتی گاؤں ادائیست کے نزدیک چوکی قائم کی ہے۔یہ اسرائیل کے سرحدی علاقے کبٹز کے نزدیک بھی واقع ہے۔اس فوجی افسر کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کا یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی بھی خلاف ورزی ہے۔اس کے تحت حزب اللہ پر اس علاقے میں فوجی سرگرمی پر پابندی عاید کی گئی تھی۔

اس افسر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ حزب اللہ نے اس چوکی سے قبل بھی غیر سرکاری تنظیم ’’سبزہ ماورائے سرحد ‘‘(گرین ود آؤٹ بارڈرز) کے نام پر پانچ چوکیاں قائم کی تھیں ۔اسرائیل نے گذشتہ سال ان کا انکشاف کیا تھا مگر اس این جی او کا درخت لگانے سے کوئی کام نہیں ہے بلکہ حزب اللہ اس کے پردے میں اسرائیلی فوج اور شہریوں کی علاقے میں نگرانی کررہی ہے ۔

اسرائیل نے لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن (یونیفل) کو اپنی تشویش سے آگاہ کردیا ہے اور اس سے کہا ہے کہ وہ علاقہ کا دورہ کرکے ان ٹھکانوں کا جائزہ لے لیکن اس نے ابھی تک ایسا نہیں کیا ہے۔ان چوکیوں میں فوجی آلات ،انفرااسٹرکچر اور اعلیٰ استعداد کے حامل کیمرے نصب ہیں۔

یادرہے کہ 2006ء میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک ماہ تک تباہ کن جنگ لڑی گئی تھی۔اسرائیل کی حزب اللہ کے نام پر لبنان کے خلاف مسلط کردہ اس جنگ میں بارہ سو سے زیادہ لبنانی مارے گئے تھے اور ایک سو ساٹھ اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں زیادہ تر صہیونی فوجی تھے۔

اس جنگ کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ نے قرارداد 1701 منظور کی تھی اور اس میں ’’بلیو لائن‘‘ کے مکمل احترام کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔اقوام متحدہ نے لبنان اور صہیونی ریاست کے درمیان تعیّن کردہ سرحد کو ’’ نیلی لکیر‘‘ کا نام دیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے حزب اللہ کو جدید اسلحہ منتقل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا دے گا۔