حوثیوں کا معاون وزیر تعلیم منحرف، باغیوں‌ پر سماجی دھارے کو تباہ کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کی طرف سے قائم کردہ غیرآئینی حکومت میں‌ مزید پھوٹ پیدا ہو گئی ہے۔ حوثیوں کا نائب وزیر تعلیم عبداللہ الحامدی بھی باغیوں کے مظالم سے تنگ آ کر ان سے الگ ہوگیا۔ ان کاکہنا ہے کہ حوثیوں‌نے قومی سماجی دھارے کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں مںحرف سرکردہ شخصیت نے کہا کہ حوثی پوری قوم پر اپنا مذہب مسلط کرنے اور سماجی دھارے کو تباہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں‌نے مزید کہا کہ حوثی لیڈرشپ کے بیانات سے فرقہ واریت کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ نوجوانوں کو بلا وجہ جنگ میں جھونکا جا رہا ہے۔ بچوں‌ کو بھی جنگ کاایندھن بنایا گیا۔ حوثیوں کے حکم پر دارالحکومت صنعاء میں بنیادی ڈھانچہ اور ملک کی معیشت کوتباہ کردیا گیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز حوثی دہشت گردوں کی قائم کردہ غیرآئینی حکومت سے علاحدگی ک اعلان کیا۔ "الحدث" چینل سے بات کرتے ہوئےانہوں‌نے دیگر تمام سرکردہ شخصیات سے مطالبہ کیا کہ وہ باغیوں سے الگ ہوجائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی طرف سے عاید کردہ احکامات کو 90 فی صد عوام نے مسترد کریا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عبداللہ الحامدی نے کہا کہ حوثیوں کی وجہ سے یمنی عوام بھوک، موت اور غربت کی دلدل میں اتر چکے ہیں۔

انہوں‌نے کہا کہ حوثی باغی نئی نسل کو تعلیم سے دور رکھ کر ان کے ہاتھ میں بندوق تھمانا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں