.

صنعاء : حوثی ملیشیا کی باہمی جھڑپیں اور لُوٹ مار کی کارروائیوں میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں حوثی ملیشیا کے مسلح ارکان کے درمیان پھر سے جھڑپیں ہوئی ہیں جن کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ یمنی دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال انتہائی مخدوش ہے۔ اس دوران باغیوں کی صفوں میں ہلاکتوں کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے ، ساتھ ہی عسکری کارروائیوں کے لیے فنڈنگ کے نام پر تجارتی مراکز اور بینکوں کو لوٹنے کی کارروائیوں کا دائرہ کار بھی وسیع ہو گیا ہے۔

صنعاء میں انارکی اور شورش خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے جو اس سے قبل نہیں دیکھی گئی۔ حوثیوں کے صنعاء پر قبضے کے بعد سے قتل و غارت اور لُوٹ مار کی کارروائیوں نے عام شہریوں، تاجروں اور کاروباری شخصیات کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

ذرائع کے مطابق صنعاء کے جنوبی علاقے صافیہ میں حوثی قبائل کے امور سے متعلق سپریم کونسل کے معاون سکریٹری جنرل صفوان الہبری کو مسلح افراد نے گھات لگا کر نشانہ بنایا۔

حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں جرائم کی درجنوں وارداتیں معمول بن چکی ہیں۔

مقامی ذرائع نے حوثی ملیشیا کے رہ نماؤن پر الزام لگایا ہے کہ وہ عسکری کارروائیوں کے واسطے مالی رقوم کے حصول کے لیے صنعاء میں منی ایکسچینجرز، تجارتی مراکز اور دکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عوام کے اندر شدید محرومی اور گھٹن کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔