.

مصر : ہنگامی حالت کے نفاذ میں مزید تین ماہ کی توسیع کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی پارلیمان نے ملک میں نافذ ہنگامی حالت کی مدت میں تین ماہ کی توسیع کی منظوری دے دی ہے۔

مصر میں اپریل 2017ء میں عیسائیوں کے دو گرجا گھروں پر بم حملوں میں 45 افراد کی ہلاکت کے بعد پہلی مرتبہ ہنگامی حالت نافذ کی گئی تھی اور اس کے بعد سے ہر تین ماہ کے بعد اس میں توسیع کی جارہی ہے۔

مصری وزیر اعظم مصطفیٰ مدبولی نے پارلیمان میں ہنگامی حالت کی منظوری کے لیے ووٹنگ سے قبل کہا کہ قومی سلامتی کو عوامی آزادیوں کے تحفظ کے ساتھ متوازن کرنے کی ضرورت ہے۔

اب کہ ہنگامی حالت میں توسیع 15 اکتوبر سے کی گئی ہے۔اس حکم کو گذشتہ ہفتے سرکاری گزٹ میں شائع کردیا گیا تھا ۔اس کے بعد سات دن میں اس کی پارلیمان سے منظوری ضروری تھی۔

سرکاری گزٹ کے مطابق ہنگامی حالت سے سکیورٹی فورسز کو خطرات سے نمٹنے ، دہشت گردی کے لیے رقوم کو روکنے اور ملک کے تمام حصوں میں امن وامان کے قیام کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا اختیار حاصل ہوجائے گا۔ہنگامی حالت سے حکام کو وسیع تر اختیارات تفویض ہوجاتے ہیں اور وہ ریاست کے دشمنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرسکتے اور انھیں گرفتار کرسکتے ہیں۔

مصری سکیورٹی فورسز شورش زدہ شمالی سیناء میں داعش سمیت مختلف جنگجو گروپوں کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ انھوں نے مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جولائی 2013ء میں برطرفی کے بعد سے مسلح بغاوت برپا کررکھی ہے۔مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے حکم پر سکیورٹی فورسز فروری سے شمالی سیناء اور ملک کے بعض دوسرے علاقوں میں جنگجوؤں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کررہی ہیں۔اس میں اب تک سیکڑوں جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔