.

یورپ ایران کے ایک بینک کو عالمی نظام سے مربوط رکھنے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی ممالک اس بات کے لیے اپنی انتہائی کوششیں صرف کر رہے ہیں کہ چار نومبر کو تہران پر امریکی پابندیوں کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے بعد ایران کا کم از کم ایک بینک عالمی بینکنگ نظام کے ساتھ مربوط رہے۔ اس بات کا انکشاف ایران کا دورہ کرنے والے فرانس کے ایک سینیٹر نے اتوار کے روز کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی میں جوہری معاہدے سے علاحدگی کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ جوہری معاہدہ جولائی 2015ء میں ایران اور چھ بڑے ممالک کے درمیان طے پایا تھا۔ تہران پر امریکی پابندیوں کے دوبارہ عائد کیے جانے کا عمل 5 نومبر کو مکمل ہوجائے گا۔ اس دوسرے مرحلے میں ایران کے آئل اور بینکنگ سیکٹر کو ہدف بنایا گیا ہے۔

فرانسیسی سینیٹر Philippe Bonnecarrere نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "یورپ کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ امریکی پابندیوں کے باوجود ایران جوہری معاہدے کی اقتصادی خصوصیات سے مستفید ہوتا رہے ، یہ ایک مشکل امر ہے تاہم ناممکن نہیں"۔

فلپ کے مطابق یورپیوں کی جانب سے ایک تجویز یہ ہے کہ "ایران کا کم از کم ایک بینک SWIFT کے سسٹم کے ذریعے عالمی بینکنگ نظام کے ساتھ مربوط رہے تا کہ پابندیوں کے زمرے میں نہ آنے والے سامان اور خدمات سے متعلق تجارتی تعلقات کا سلسلہ جاری رہے"۔

فلپ فرانسیسی سینیٹ میں فرانس ایران فرینڈشپ گروپ کے سربراہ بھی ہیں۔ انہوں نے یہ بیان ایرانی پارلیمنٹ میں اپنے ہم منصب کاظم جلالی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔

اس موقع پر جلالی نے فرانسیسی ارکان پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "ہم سمجھتے ہیں کہ یورپیوں اور یورپی یونین کے اقدامات اس سے کہیں آگے جانا چاہئیں"۔ جلالی نے اس امید کا اظہار کیا کہ وعدوں کو پورا کیا جائے گا اور یورپی یونین نے جو اعلان کیا ہے اس پر چار نومبر سے قبل عمل درامد ہو گا۔

تاہم فرانسیسی سینیٹر فلپ نے باور کرایا کہ چار نومبر سے قبل اس حوالے سے خصوصی میکانزم وضع کرنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس حوالے سے عمل درامد آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں ممکن ہو سکے گا۔