.

"اھواز" میں فوجی پریڈ پرحملے کے بعد 600 افراد گرفتار کرلیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے عرب اکثریتی صوبہ "الاھواز" میں گذشتہ ماہ ہونےوالی ایک فوجی پریڈ پر حملے کےبعد ایرانی سیکیورٹی اداروں نے وحشیانہ کریک ڈائون شروع کیا ہے۔ ایک ماہ کے دوران کم سے کم 600 شہری حراست میں لیے گئے ہیں۔ان میں خواتین، انسانی حقوق کارکن، سیاسی رہ نما اور عام شہری بھی شامل ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 22 ستمبر کو "الاھواز" میں ہونے والی پریڈ پر حملے کے بعد مشتبہ افراد کے خلاف وحشیانہ کریک ڈائون شروع کیا گیا۔ کریک‌ ڈائون اب تک جاری ہے اور اس میں کم سے کم چھ سو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

انسانی حقوق گروپ کے مطابق الاھواز میں‌فوجی پریڈ پر حملےمیں "داعش" کے ملوث ہونے کا دعویٰ قابل یقین نہیں لگتا۔ اس کارروائی میں خود ایرانی انٹیلی جنس ادارے ملوث ہوسکتے ہیں کیونکہ اس طرح کی کارروائیوں سے ملک کو درپیش مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے دہشت گردی کی کارروائیوں کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ 22 ستمبر کو الاھواز میں ہونے والی ایک فوجی پریڈ حملے میں 25 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ "داعش" نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔