.

حزب اللہ وزارت صحت کا قلم دان کیوں حاصل کرنا چاہتی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی جانب سے 4 نومبر کو ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کا نیا مرحلہ شروع کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایرانی پروردہ عناصر اور تنظیمیں بھی تہران پرعاید کردہ پابندیوں کے بعد اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق ایران کی طرف سے امداد میں کمی کے بعد لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ پیسہ بٹورنے کے لیے نئے اقدامات کرنے لگی ہے۔ لبنان میں تشکیل پانے والی نئی حکومت پربھی حزب اللہ کی نظریں ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق حزب اللہ حکومت میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ ایسی وزارتیں حاصل کرنا چاہتی ہے جن کے ذریعے زیادہ سے زیادہ "مال" کمایا جاسکے۔

واشنگٹن انسٹیٹیوٹ فار اسٹڈی سیںٹر کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کی طرف سے بعض حکومتی سروسز کا حصہ بن کر یا زیادہ آمدن والی وزارتیں حاصل کرکے ایران پر عاید کردہ پابندیوں کے بالواسطہ اثرات سے آزاد ہونا چاہتی ہے۔

حزب اللہ جس کی لبنانی پارلیمنٹ میں بھی کافی سیٹیں موجود ہیں نے اپنے مخالف سعد حریری اور ان کے اتحادیوں کو حکومت بنانے کی اجازت دی ہے۔ بعض کلیدی وزارتوں پر حزب اللہ کی توجہ اس لیے نہیں تنظیم پر دہشت گردی کا الزام عاید ہونے کی وجہ سے انہیں حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اگر حزب اللہ کو کلیدی وزارتیں ملتی ہیں تو اس پر پہلے سے عاید کردہ پابندیوں کے ساتھ نئی پابندیاں ان وزارتوں اور محکموں کو بھی متاثر کرسکتی ہیں۔

البتہ حزب اللہ کی پوری کوشش وزارت صحت کا حصول ہے۔ لبنان میں یہ چوتھی بڑی آمدن والی وزارت ہے جس کی سالانہ آمدن 30 کروڑ 38 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے۔حزب اللہ کو شبہ ہے کہ تہران 700 ملین ڈالر کی امداد سالانہ کی بنیاد پر اسے جاری نہیں رکھ سکے گا۔