.

حوثیوں نے کھیلوں کی 70% تنصیبات تباہ کر دیں : نوجوانوں کے یمنی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صوبے البیضاء میں حوثی ملیشیا کے ہاتھوں قومی فٹبال ٹیم کے کھلاڑی ولید الحبیشی کے اغوا نے عوامی حلقوں میں غم و غصّے کی لہر دوڑا دی ہے۔

یمن کے بعض شہروں پر حوثیوں کے جزوی قبضے کے بعد کھیلوں کے میدانوں اور کلبوں کو ملیشیا کے تربیتی مراکز اور اسلحہ و گولہ بارود کے گوداموں میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس کا مقصد یمن میں کھیلوں کے انفرا اسٹرکچر کو تباہ کرنا اور کھلاڑیوں کو حوثیوں کی صفوں میں شامل ہو کر لڑائی میں شرکت پر مجبور کرنا تھا۔

یمن میں نوجوانوں اور کھیلوں کے وزیر نائف البکری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے یمن میں کھیلوں کی موجودہ صورت حال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ "حوثی ملیشیا ملک میں کھلاڑیوں کے حوالے سے متعدد مجرمانہ کارستانیوں میں ملوث ہے۔ قومی فٹبالر ولید الحبیشی کا حراست میں لیا جانا کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ باغی ملیشیا کی جانب سے کھیلوں سے متعلق افراد اور تنصیبات کے خلاف پامالیوں کی ایک لمبی فہرست ہے"۔

یمنی وزیر نے انکشاف کیا کہ "حوثیوں کے ہاتھوں تقریبا 11 کھلاڑیوں کی زندگی کا خاتمہ کیا گیا جب کہ کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد کو گرفتار بھی کیا گیا۔ ان میں سے بعض کو رہا کر دیا گیا اور بہت سے اب بھی زیر حراست ہیں۔ علاوہ ازیں کھیلوں سے متعلق 3 صحافیوں احمد ناصر مہدی، قاسم البعيصی اور عبادہ الجرادی بھی گرفتار ہوئے جن کے انجام کے بارے میں ابھی تک کچھ معلوم نہیں"۔

البکری نے کھلاڑیوں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "کھیل اور سیاست علاحدہ چیزیں ہیں۔ کھلاڑی کسی جماعت یا وزیر کی نہیں بلکہ پورے ملک کی نمائندگی کرتا ہے۔ حوثی ملیشیا پر لازم ہے کہ وہ کھلاڑیوں کو اذیت پہنچانے سے گریز کرے اور ان کو رہا کر دے"۔

یمنی وزیر کے مطابق حوثیوں کی جانب سے یمن کے شہروں پر مسلط کی جانے والی جنگ کے سبب کھیلوں کی 70% تنصیبات کو جزوی یا کلّی طور پر نقصان پہنچا ہے جن میں کئی اہم اسٹیڈیمز اور کلب شامل ہیں۔

البکری نے بتایا کہ یہ امر قابل اطمینان کہ یمن میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی بتدریج بحالی شروع ہو گئی ہے۔ اس حوالے سے حضرموت، عدن، تعز، ابین لحج، مارب اور عدن میں مختلف ایونٹس کا انعقاد عمل میں آیا ہے۔ یمن کی فٹبال ٹیم نے ایشیا کپ کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔

یمنی وزیر کے مطابق حوثیوں سے آزاد کرائے جانے والے علاقوں میں کھیلوں کی تنصیبات کی تیاری اور بحالی کے حوالے سے وسیع منصوبے موجود ہیں۔ البتہ اُن علاقوں کے لیے فی الحال کوئی منصوبہ وضع نہیں کیا جا سکتا جو ابھی تک حوثیوں کے قبضے میں ہیں۔