.

خاشقجی قتل میں سعودی عرب کا ملزمان کو حراست میں لینا اہم اقدام ہے : ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے معروف صحافی جمال خاشقجی کی موت پر سعودی عوام سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وہ منگل کے روز پارلیمنٹ میں اپنی حکمراں جماعت "جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ" پارٹی کے ارکان سے خطاب کر رہے تھے۔

ایردوآن نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ساتھ اپنی ٹیلیفونک گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دونوں سربراہان خاشقجی کیس کے حوالے سے سعودی ترکی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل پر متفق ہو گئے۔ ترکی صدر کے مطابق یہ واقعہ استنبول میں رونما ہوا لہذا "ہم پر ذمّے داری عائد ہوتی ہے"۔

ایردوآن نے خاشقجی کیس کے جرم کے حوالے سے سعودی عرب کا ملزمان کو حراست میں لینا ایک اہم اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ خاشقجی کیس میں تمام 18 ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی ترکی میں پوری کی جائے"۔

اس سے قبل ترک ایوانِ صدارت کے ترجمان ابراہیم کالن نے پیر کے روز کہا تھا کہ اُن کا ملک یہ نہیں چاہتا کہ خاشقجی کے معاملے کی وجہ سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ آئے۔

اس سے قبل برطانوی خبر رساں ایجنسی نے ایک سعودی عہدے دار کا یہ بیان نشر کیا تھا کہ قونصل خانے میں جمال خاشقجی کی موت مذاکرات کاروں کی ٹیم کی غلطی کے نتیجے میں واقع ہوئی۔ عہدے دار نے باور کرایا کہ "ابتدائی رپورٹیں درست نہیں تھیں جس کے سبب ہم تحقیقات کرنے پر مجبور ہو گئے"۔

مذکورہ عہدے دار کا کہنا ہے کہ خاشقجی کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے تشدد کا استعمال کیا اور احکامات کی خلاف ورزی کی۔ عہدے دار کے مطابق ابتدائی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ خاشقجی کو آواز اونچی کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی جس کے دوران اُن کا دم گُھٹ گیا۔

سعودی عہدے دار نے بتایا کہ خاشقجی کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم کی خبط الحواسی نے واقعے پر پردہ ڈالنے پر مجبور کر دیا۔ عہدے دار کے مطابق اس معاملے میں 18 افراد کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے اور ان سے کو حراست میں لے کر تحقیقات جاری ہیں۔

سعودی وزیر انصاف اور سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ شیخ ڈاکٹر ولید بن محمد الصمعانی نے باور کرایا تھا کہ تمام مقدمات میں انصاف اور شفافیت مملکت سعودی عرب کی پہچان ہے۔