.

خاشقجی کی موت کے ذمّے دار ہر فرد کو پکڑیں گے : عادل الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ مملکت جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے جامع تحقیقات کرنے پر کاربند ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ واقعے کے ذمّے دار تمام افراد کو حراست میں لیا جائے گا۔

منگل کے روز انڈونیشیا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الجبیر نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے ضروری اقدامات کیے جائیں گے تا کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔

اس سے قبل سعودی وزیر داخلہ نے اتوار کے روز امریکی چینل فوکس نیوز کو دیے گئے خصوصی اںٹرویو میں کہا تھا کہ "جمال خاشقجی کی موت کا واقعہ ایک سنگین غلطی کا نتیجہ تھا اور اس کیس میں ملوّث ذمے داروں کا احتساب کیا جائے گا۔ سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز جمال خاشقجی کے قاتلوں کے احتساب کے لیے پُرعزم ہیں۔ جن لوگوں نے یہ کام کیا ہے، انہوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

الجبیر نے واضح کیا کہ "سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ابتدا میں خاشقجی کیس سے آگاہ ہی نہیں تھے۔ اس واقعے میں ملوث افراد میں سے کسی کے بھی ولی عہد سے کوئی قریبی تعلقات نہیں تھے اور نہ ان میں ولی عہد کے قریبی کوئی لوگ شامل تھے۔ یہ ایک آپریشن تھا اور روگ آپریشن تھا"۔

سعودی وزیر خارجہ کے مطابق جمال خاشقجی کے استنبول میں سعودی قونصل خانے سے باہر نکلنے سے متعلق متضاد رپورٹس منظرعام پرآنے کے بعد ہی تحقیقات شروع کردی گئی تھیں۔ سعودی عرب ان کی موت سے متعلق دستیاب ہونے والی تمام معلومات کو منظرعام پر لائے گا۔

عادل الجبیر نے خاشقجی خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا اورتسلیم کیا ہے کہ ان کی اس طرح واقع ہونے والی موت ایک غیر معمولی واقعہ ہے اور یہ ایک بڑی اور سنگین غلطی ہے۔

الجبیر نے بتایا کہ سعودی حکام خاشقجی کی لاش کی تلاش کے لیے کام کر رہے ہیں اور وہ قونصل خانے میں رونما ہونے والے واقعے کی مکمل تفصیل کے تعیّن کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔