.

ایران کو "شام کے آئین" سے دور رکھنے کے لیے اقدامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا کے دمشق کے دورے سے قبل شام کی آئین ساز کمیٹی کی تشکیل کے لیے کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔

اس دوران رابطوں کے حوالے سے امریکا کا اہم سیاسی اور عسکری کردار نمایاں ہو رہا ہے جب کہ ایران تقریبا مکمل طور پر منظرنامے سے غائب ہے۔

ادھر روسی ایوان صدارت کے مطابق شام کے حوالے سے آئندہ چار فریقی سربراہ اجلاس میں کوئی معاہدہ سامنے نہیں آئے گا۔ یہ اجلاس 27 اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں منعقد ہو گا۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر حرکت میں آنے والے ممالک میں امریکا نمایاں نظر آ رہا ہے جب کہ تہران غائب ہے۔

اس سے قبل ڈی میستورا کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے شام کی آئین ساز کمیٹی کی تشکیل کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی کوششوں کو سراہا تھا۔

دوسری جانب ترکی کرد پروٹیکشن یونٹس کے سیاسی نمائندوں کو شام کی آئین ساز کمیٹی سے دور رکھنے کے لیے روس کے ساتھ مفاہمت پر انحصار کر رہا ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے کرد یونٹس کو ایک دہشت گرد تنظیم گردانا ہے اور اُن کے مطابق روس اس بات کا ادراک رکھتا ہے۔

ماسکو نے ایران کو دور کرتے ہوئے روس، ترکی، فرانس اور جرمنی پر مشتمل چار فریقی سربراہ اجلاس کے لیے آمادگی کا عندیہ دیا ہے۔

شام میں امریکا کے زیر کنٹرول علاقوں میں واشنگٹن کی جانب سے سیاسی اور عسکری سطح پر حرکت دیکھی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں شام کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے جیمز جیفری نے رقّہ، عین عیسی اور منبج کے علاقوں کا دورہ کیا۔ علاوہ ازیں مشرق وسطی میں امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر جنرل جوزیف ووٹیل نے التنف کا رخ کیا تا کہ واشنگٹن وہاں اپنے عکسری وجود کو قائم رکھے اور ایران کے اثر و رسوخ کو روکا جا سکے۔