.

بیت المقدس : قبطی راہبوں کے احتجاجی مظاہرے پر اسرائیلی فوج کا دھاوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ بیت المقدس میں بدھ کی صبح قابض اسرائیلی فوج نے القدیمہ ٹاؤن میں قبطی آرتھوڈکس پادریوں کے ایک احتجاجی مظاہرے میں شریک ایک راہب کو گرفتار کر لیا۔

قابض صہیونی افواج نے احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن کیا اور مظاہرے میں شریک متعدد راہبوں اور مرد و خواتین پر دھاوا بول دیا۔

مذکورہ احتجاجی مظاہرہ اسرائیلی حکومت کے اُس فیصلے پر کیا گیا جس میں قبطی چرچ کو قبطی سلطان کی خانقاہ کے اندر تجدید اور بحالی کا کام انجام دینے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ قابض اسرائیلی حکومت قبطی چرچ کی منظوری کے بغیر خود خانقاہ کے اندر اس کام کی نگرانی کر رہی ہے۔

القدیمہ ٹاؤن میں کلیسائے قیامت کے پڑوس میں واقع خانقاہ سلطان کے اطراف قابض اسرائیلی فوج کی بھرپور موجودگی کے سبب صورت حال کشیدہ ہو گئی۔

ادھر Islamic Christian Committee to Defend Jerusalem and Holy Sites نے قابض حکام کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں قبطی راہبوں پر حملے اور ان کی گرفتاری کی کی سخت مذمت کی ہے۔

کمیٹی نے مسیحیوں کے متعلق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ بیان کو مقدس اراضی میں شر انگیزی کا باعث قرار دیا۔ نیتن یاہو نے اپنے بیان مِں مسیحیوں کو اقلیت قرار دیا تھا۔ اوقاف اور مذہبی امور کے ویزر یوسف ادعیس نے بھی قبطی راہبوں کو دھاوے کا نشانہ بنانے کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ یہودی بستیوں سے متعلق انجمنوں نے حالیہ عرصے میں بطن الہوی کے علاقے میں شہریوں کی متعدد جائیدادوں کو ہتھیا کر انہیں بستیوں کے لیے چوکیوں میں تبدیل کر دیا۔

دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے بیت المقدس کے شمال میں ضاحیہ البرید کے علاقے میں بیت المقدس کے امور کی وزارت کے صدر دفتر کا محاصرہ کر لیا۔ اسرائیلی فوج کی اسپیشل فورس نے اتوار کے روز القدس کے گورنر عدنان غیث اور القدس کے نواحی علاقوں کے انٹیلی جنس ڈائریکٹر کرنل جہاد الفقیہ کو اغوا کر لیا تھا۔ بعد ازاں پیر کے روز دونوں افراد کو رہا کر دیا گیا۔