.

شام میں اغوا ہونے والا جاپانی صحافی 3 برس بعد رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں کئی برس قبل ہیئۃ تحریر الشام (سابقہ النصرہ فرنٹ) کے ہاتھوں اغوا ہونے والے جاپانی صحافی "جومبے یاسودا" کو رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ بات شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے منگل کی شب بتائی۔

المرصد کے مطابق یاسودا کو اغوا کاروں نے 2015ء سے ادلب صوبے کے مغربی دیہی علاقے میں یرغمال بنایا ہوا تھا۔ النصرہ فرنٹ نے یاسودا کو خربہ الجوز کے علاقے میں ترک حکام کے مقرّب ایک غیر شامی عسکری گروپ (حُرّاس الدين تنظیم) کے حوالے کیا جس کے بعد جاپانی صحافی کی رہائی عمل میں آئی۔

المرصد نے باوثوق ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ رہائی کی ڈیل قطر کی جانب سے النصرہ فرنٹ کو بھاری رقم کی ادائیگی کے نتیجے میں ممکن ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق جاپانی صحافی کو 4 روز قبل حوالے کر دیا گیا تھا تاہم سیاسی مقاصد کے لیے مناسب وقت پر اعلان کیا گیا۔ واضح رہے کہ جاپانی حکومت نے رہائی کے بدلے رقم کی ادائیگی کو اس اندیشے کے سبب منع کر دیا تھا کہ یہ "دہشت گرد تنظیموں کی سپورٹ" کا باعث ہو گا۔

دوسری جانب جاپانی وزیراعظم شینزو ایبے نے بدھ کے روز کہا ہے کہ جاپانی یرغمالی کی آزادی پر وہ اطمینان محسوس کر رہے ہیں ،،، تاہم ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ابھی مذکورہ شخص کی شناخت کی تصدیق کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل جاپانی کابینہ کے چیف سکریٹری یوشی ہیدی سوجا نے منگل کی شب تاخیر سے بتایا کہ ٹوکیو کو ایک شخص کے آزاد کیے جانے سے متعلق معلومات موصول ہوئی ہیں جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ رہائی پانے والا جاپانی صحافی جومبے یاسودا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے یاسودا کی اہلیہ کو آگاہ کر دیا ہے تاہم حکام ابھی اس شخص کی شناخت کی کوششیں کر رہے ہیں۔

جاپانی ذرائع ابلاغ کے مطابق القاعدہ تنظیم کے زیر انتظام ایک جماعت نے 2015ء میں 44 سالہ یاسودا کو ترکی سے آتے ہوئے شام میں داخل ہونے پر یرغمال بنا لیا تھا۔ اس کے بعد جاپانی صحافی کبھی کبھار انٹرنیٹ پر جاری وڈیو ٹیپ میں نظر آتا رہا۔