.

عالمی کمپنیاں امریکا اور ایران میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں:امریکی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں متعین امریکی سفیر ووڈی جانسن نے ایران کے ساتھ تجارتی لین دین جاری رکھنے والی عالمی کمپنیوں کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی فرموں کو ایران اور امریکا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا چاہیے۔

العربیہ کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ "ٹوئٹر" پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں امریکی سفیر نے لکھا کہ عالمی تجارتی اداروں اور کمپنیوں کو امریکا اور ایرانی ملائوں میں سے کسی ایک کے ساتھ چلنا ہوگا۔

امیرکی سفیر کا کہنا تھا کہ ایران پر اقتصادی پابندیوں کا دوسرا مرحلہ چار نومبر کو شروع کیا جائے گا۔ اس کے بعد عالمی تجارتی اداروں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ امریکا کے ساتھ ہیں یا ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے تہران پر 4 نومبر سے اقتصادی پابندیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔ نئی پابندیوں کے ایران کے تیل سیکٹر کو خاص طورپر نشانہ بنایا جائے گا۔

عالمی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ایران خود کو حالت جنگ میں تصور کرتا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر مسعود بزشکیان نے "انصاف نیوز" ویب سائیٹ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حقیقی معنوں میں ایران حالت جنگ میں ہے مگر ہم عوام میں یہ بات ظاہر نہیں کرتے۔


انہوں‌نے کہا کہ ہم اس وقت بدترین اقتصادی جنگ کی حالت میں ہیں۔ عراق کے ساتھ جنگ کے دور میں بھی ایران پر ایسا مشکل وقت نہیں آیا۔