.

فلسطینی اتھارٹی قیدیوں سےغیرانسانی سلوک کی مرتکب: ہیومن رائٹس واچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" نے منگل کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں فلسطینی حکام پر جیلوں میں قید افراد سے منظم انداز میں غیر انسانی سلوک کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی سیکیورٹی ادارے جیلوں میں قید افراد پر بدترین تشدد اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطین کے علاقوں غرب اردن اور غزہ دونوں میں قائم کردہ جیلوں میں قیدیوں کو غیرانسانی سلوک کا سامنا ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے علاقوں میں فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام حراستی مراکز میں قیدیوں سے غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے جب کہ غزہ کی پٹی میں تحریک حماس کی قائم کردہ جیلوں میں بھی تشدد، دھمکیوں اور ظالمانہ پکڑ دھکڑ جاری ہے۔

رپورٹ کی تیاری میں دو سال کے دوران 150 افراد کے بیانات قلم بند کیے گئے اور دوران حراست تشدد کے 86 دستاویزاتی واقعات کو شامل کیا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ کے علاقائی ڈائریکٹر عمر شاکر کا کہنا ہے کہ فلسطینی قید خانوں میں ہونے والے تشدد کو انسانیت کے خلاف جرائم کے درجے میں شامل کیا جاسکتا ہے اور ان جرائم کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں بھی اٹھایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے عرب ممالک پر زور دیا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کو دی جانے والی امداد انسانی حقوق کی پامالیاں روکنے سے مشروط کریں۔

دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی نے "ہیومن رائٹس واچ" کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ اور اس کے تمام مندرجات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی وزارت داخلہ کے شعبہ انسانی حقوق کے چیئرمین ھیثم عرار نے کہا کہ ہیومن رائٹس واچ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلیف ہوچکی ہے۔ رپورٹ میں انسانی حقوق اور سیاست کو خلط ملط کردیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی قیدیوں پر تشدد کے دوران وحشیانہ ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے۔ ان میں قیدیوں کو وحشیانہ طریقے سے مار پیٹ کرنا اور انہیں بجلی کے جھٹکے لگانا جیسے سنگین حربے شامل ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی نے 2017ء کے دوران 39 سالہ صحافی سامی الساعی کو حماس سے تعلق کے شبے میں چھت کے ساتھ الٹا لٹکا کر اعتراف جرم کرنے کے لیے ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا۔ الساعی کو تین ماہ تک عقوبت خانوں میں غیرانسانی سلوک کا سامنا رہا۔