.

گزشتہ 20 برسوں کی بد ترین قحط سالی یمن کی دہلیز پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ صومالیہ اور جنوبی سوڈان کے بعد یمن گزشتہ بیس برسوں میں قحط سالی کا شکار ہونے والا تیسرا ملک بن سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے معاون برائے انسانی امور مارک لوکوک کا کہنا ہے کہ اگر یمن میں یہ ہی صورت حال رہی تو آنے والے چند ماہ کے دوران 1.4 کروڑ افراد "قحط کے دہانے" پر پہنچ سکتے ہیں۔ یہ بات سلامتی کونسل کے 15 ارکان کو پیش کی گئی ایک داخلی یادداشت میں بتائی گئی جس پر 18 اکتوبر کی تاریخ درج ہے۔

یادداشت میں لوکوک نے تحریر کیا ہے کہ یمن میں انسانی صورت حال دنیا بھر کے لحاظ سے بدترین ہے۔ تقریبا 75% آبادی یعنی 2.2 کروڑ افراد کو امداد اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ ان میں 84 لاکھ افراد کو خطرناک غذائی قلت کا سامنا ہے اور انہیں ہنگامی طور پر خوراک فراہم کیے جانے کی ضرورت ہے"۔

لوکوک کے مطابق 84 لاکھ کی تعداد میں مزید 56 لاکھ کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح یمن میں قحط سالی کے کنارے پہنچ جانے والے افراد کی مجموعی تعداد 1.4 ہو جائے گی۔

عالمی ادارہ برائے خوراک کے مطابق اس وقت "انسانی امداد کی سب سے بڑی کارروائی" یمن میں جاری ہے جس میں 200 سے زیادہ شرکاء ہیں مدد اور تحفظ پیش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں یمن کے مستقل مندوب مروان علی نعمان نے منگل کے روز باور کرایا ہے کہ حوثی ملیشیا نے آئینی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے شہریوں کے خلاف تشدد اور اذیت رسانی اور جبری ہجرت کے تمام طریقے آزمائے۔

یمن میں آئینی حکومت اقوام متحدہ میں اپنے نمائندوں کے ذریعے اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ یمن میں انسانیت جس المیے سے دوچار ہے وہ شدت پسند ملیشیا کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت کا نتیجہ ہے۔

ادھر شاہ سلمان امدادی مرکز کی جانب سے یمن کے عوام کے لیے انسانی امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ ان میں تازہ ترین امداد المہرہ صوبے میں بارشوں اور طوفان سے متاثرہ آفت زدہ علاقے میں پہنچائی گئی۔