ادلب میں جنگ بندی سمجھوتے کا تحفظ کیا جانا چاہیے:استنبول سربراہ اجلاس کا اعلامیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترکی ، جرمنی ،روس اور فرانس کی قیادت نے شام میں باغیوں کے زیر قبضہ شمال مغربی صوبے ادلب میں جنگ بندی کے لیے طے شدہ سمجھوتے کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا ہے اور اس سال کے آخر تک جنگ زدہ ملک کا نیا آئین مرتب کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار ہوسکے۔

ترکی کے شہر استنبول میں ہفتے کے روز ان چارو ں ممالک کے لیڈروں کے اجلاس کے بعد صدر رجب طیب ایردوآن نے ایک بیان میں ادلب میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔اس موقع پر جرمن چا نسلر انجیلا میرکل نے کہا کہ شامی بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہوسکتا۔ اس کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک سیاسی عمل شروع کیا جانا چاہیے اور اس کا حتمی مقصد آزادانہ انتخابات کا انعقاد ہونا چاہیے۔

انھوں نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ سیاسی عمل کے اختتام پرآزادانہ انتخابات ہونے چاہییں جن میں تمام شامیوں بہ شمول تارکینِ وطن کو حصہ لینے کی آزادی ہونی چاہیے‘‘۔

ترک صدر طیب ایردوآن کی میزبانی میں استنبول میں منعقدہ اس چارفریقی اجلاس میں روسی صدر ولادی میر پوتین ، جرمن چانسلر انجیلا میرکل اور فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے شرکت کی ہے اور انھو ں نے شام کی تازہ صورت حال اور بحران کے حل کے لیے مختلف تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ مذاکرات میں شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی میستورا بھی شریک تھے۔

واضح رہے کہ ترکی اور روس کے درمیان گذشتہ ماہ شام میں باغیو ں کے آخری گڑھ شمال مغربی صوبے ادلب میں جنگ بندی کا سمجھوتا طے پا یا تھا۔اس کے تحت ادلب کے گرداگرد پندرہ سے بیس کلومیٹر کے علاقے میں غیر فوجی علاقہ قائم کیا جارہا ہے جہاں کسی کو بھی بھاری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔وہا ں موجود باغی گروپوں اور ان کے بھاری ہتھیاروں کو پیچھے ہٹا لیا گیا ہے۔

ادلب اور اس کے نواحی علاقوں میں قریباً تیس لاکھ افراد رہ رہے ہیں۔ان میں نصف کو شام کے دوسرے علاقوں سے یہاں منتقل کیا گیا ہے یا وہ شامی فوج کی پیش قدمی کے بعد وہاں سے ادلب میں اٹھ آئے تھے ۔ترکی اور روس کے درمیان جنگ بندی کا سمجھوتا طے پانے کے بعد شامی فوج نے ادلب میں باغیوں کے خلاف آپریشن موخر کردیا تھا اور روسی طیاروں نے بھی حملے روک دیے تھے۔

قبل ازیں جمعہ کو ادلب میں گولہ باری سے سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں ۔اگست کے وسط میں روس کے فضائی حملے روکے جانے کے بعد ایک دن میں یہ سب سے زیادہ جانی نقصان ہے۔دمِ تحریر یہ واضح نہیں ہوا تھا کہ یہ گولہ باری کس نے کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں