.

اسرائیل، فلسطین امن عمل میں اومان ثالثی نہیں ، تجاویز پیش کررہا ہے: وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اومان کے وزیر برائے امور خارجہ یوسف بن علاوی بن عبداللہ نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کوئی ثالثی کا کردار نہیں ادا کررہا ہے بلکہ وہ ودونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے تجاویز پیش کررہا ہے۔

انھوں نے یہ بات ہفتے کے روز بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقدہ سکیورٹی کانفرنس میں اپنی تقریر میں کہی ہے۔ان کی اس گفتگو سے ایک روز قبل ہی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اومان کا دورہ کیا ہے اور دارالحکومت مسقط میں سلطان قابوس بن سعید سے ملاقات کی تھی۔

اومانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک مشرقِ اوسط کے تنازع کے حل کے لیے بڑا پُرامید ہے اوراس سے فلسطین اور اسرائیل دونوں کو فائدہ پہنچے گا ۔

بن علاوی نے قبل ازیں کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے مسقط کا یہ دورہ فلسطینی صدر محمود عباس کے دورے کے بعد کیا ہے لیکن دونوں کی مسقط میں آمد ان کے اومان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات فریم ورک کے تحت ہوئی ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل کے اومان کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار نہیں ہیں ۔

بحرینی وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد نے اسرائیلی وزیراعظم کے اومان کے دورے اور سلطان قابوس سے ملاقات کے حوالے سے کہا کہ’’ ہم نے اسرائیلی فلسطینی تنازع کے حل کے لیے سلطان قابوس کے کردار اور فہم وفراست کے حوالے سے کبھی سوال نہیں کیا ہے۔ہماری خواہش ہے کہ وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوں‘‘۔