شام کے حوالے سے چار ملکی سربراہ اجلاس آج استنبول میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

استنبول میں آج ہفتے کے روز شام کے حوالے سے ایک سربراہ اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں ترکی، روس، فرانس اور جرمنی شرکت کریں گے۔ اپنی نوعیت کے اس پہلے اجلاس کا مقصد اِدلب میں کمزور جنگ بندی کو مضبوط بنانا اور سیاسی اقتدار کی منتقلی کے سلسلے میں حرکت میں آنا ہے۔

سربراہ اجلاس کا آغاز گرینچ کے وقت کے مطابق دوپہر 1 بجے ہو گا۔ یہ پہلا موقع ہے جب ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن، روسی صدر ولادی میر پوتین ، فرانسیسی صدر امانوئل ماکروں اور جرمن چانسلر انجیلا میرکل اکٹھے ہو رہے ہیں۔

اس حوالے سے ترک ایوان صدارت کے ترجمان ابراہیم قالن کا کہنا ہے کہ "ہم اُمید رکھتے ہیں کہ اس اجلاس میں اقدامات سامنے آئیں گے۔ اس کے علاوہ شام میں سیاسی تصفیے کی ایک واضح صورت کے لیے روڈ میپ کا اعلان کیا جائے گا اور آئین سازی کمیٹی کی تشکیل عمل میں آئے گی"۔

کہا جا رہا ہے کہ اِدلب کے حوالے سے سوچی معاہدہ اور دریائے فرات کے مشرق کی صورت حال اس سربراہ اجلاس میں ترکی کے ایجنڈے کے سرفہرست موضوعات ہوں گے۔ جہاں تک یورپیوں کا تعلق ہے تو اُن کی کوششوں کا محور آئین ساز کمیٹی کے آغاز کے لیے روس سے رعائتیں حاصل کرنا ہے۔

دوسری جانب ماسکو شام میں تعمیر نو اور مہاجرین کی اپنے دیہات اور قصبوں کو واپسی کے کے معاملات پر یورپی سپورٹ کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ پیرس اور برلن کے نزدیک یہ واپسی ایک جامع سیاسی حل اور شام سے ایران کے انخلاء کے ساتھ مربوط ہے۔

ترک لکھاری اور صحافی طہ عودہ اوگلو کے مطابق یہ بات طے ہے کہ آج کے سربراہ اجلاس میں شریک ممالک اور امریکا شام میں ایرانی ملیشیاؤں کی موجودگی کو مسترد کرتا ہے۔ اس سربراہ اجلاس کے بعد ایران پر دباؤ کے لیے اقدامات دیکھیں گے تا کہ آئندہ مرحلے میں وہ شام سے اپنی ملیشیاؤں کو نکال لے۔

مبصرین کے نزدیک استنبول سربراہ اجلاس شام کے حوالے سے بین الاقوامی رجحانات کو مختصر کر دے گا۔ واضح رہے کہ فرانس اور جرمنی متعدد معاملات میں دونوں حلیفوں روس اور ترکی کے ویژن سے اختلاف رکھتے ہیں۔ ان میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز کا معاملہ اور شام کے علاقوں میں وفاقی سپورٹ اہم ترین ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں