.

حوثی ملیشیا کی "ایرانی نعروں" کے ذریعے یمنی طلبہ کی برین واشنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا کے زیر کنٹرول علاقوں میں سرکاری اسکولوں کے اندر طلبہ کی "برین واشنگ" اور اُن افکار و نظریات کو اُنڈیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے جن پر باغی ملیشیا خود عمل پیرا ہے۔

حوثیوں کی جانب سے طلبہ کو بھرتی کرنے، انہیں انسانی ڈھال بنانے اور ان میں اپنے نظریات کی تلقین و ترغیب کی صورت میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے ہفتے کے روز اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر ایک وڈیو پوسٹ کی ہے۔ وڈیو میں اِب صوبے کے ضلعے مذیخرہ میں ایک اسکول کے اندر طلبہ کی قطار نظر آ رہی ہے۔ یہ طلبہ حوثی ملیشیا کے سرغنے کی مدح و تعریف میں ایسے سیاسی نعرے لگا رہے ہیں جو یمنی معاشرے میں ایرانی مداخلت کا پَر تو ہیں۔

یمنی وزیر نے وڈیو پر اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ " یہ وہ سوچ ہے جو ایران نواز حوثی ملیشیا نے ہر اسکول کی لائن میں ہمارے بچوں اور آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں بسا دی ہے۔ اس کا مقصد معاشرتی تانے بانے کو ادھیڑ ڈالنا اور یمنی شناخت کو مسخ کرنا ہے۔ اس واسطے ، غاروں میں چُھپے رہ نما کے لیے وفاداری کا اعلان کروایا جا رہا ہے ، ایرانی نعروں کو بلند کیا جا رہا ہے اور تعلیمی نصاب تبدیل کیے جا رہے ہیں"۔

معمر الاریانی نے مزید کہا کہ "حوثی ملیشیا بچوں اور اسکول کے طلبہ کو اپنی قیادت کے بچاؤ کے واسطے انسانی ڈھالوں کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ حوثی باغیوں کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی کی جا رہی ہے جو جنگ کے حالات میں بچوں کو استعمال کرنے اور ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے سے منع کرتے ہیں"۔

یمنی وزیر نے ایک تصویر پوسٹ کی جس میں بچوں کو بطور انسانی ڈھال ایک حوثی کمانڈر کی سواری کے اطراف چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔