.

شام : بشار کی فوج کی جانب سے دمشق کے اطراف دیہی علاقوں پر گولہ باری جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق دارالحکومت دمشق کے اطراف دیہی علاقوں میں زور دار دھماکے سنے گئے ہیں۔

المرصد کا کہنا ہے کہ دھماکوں کی آوازیں شامی حکومت کی جانب سے تلول الصفا کے علاقے میں داعش تنظیم کے خلاف عسکری کارروائی دوبارہ شروع کیے جانے کے بعد سنی گئیں۔ یاد رہے کہ 25 جولائی سے یرغمال بنائے گئے افراد میں سے 21 شہری (7 عورتیں اور 21 بچے) ابھی تک داعش کے قبضے میں ہیں جن کو آزاد نہیں کرایا جا سکا۔

المرصد کے مطابق بم باری اور گولہ باری کے بیچ فریقین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جب کہ داعش نے بشار کی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بھی بنایا۔ اس صورت حال پر مغوی افراد کے اہل خانہ میں شدید غم و غصّے کی لہر دوڑ گئی جن کو اندیشہ ہے کہ داعش تنظیم ایک بار پھر زیر حراست افراد میں سے کسی کو موت کے گھاٹ نہ اتار دے۔ تنظیم اس سے پہلے بھی اپنے پاس یرغمال افراد میں سے ایک شامی خاتون اور ایک لڑکے کو موت کی نیند سلا چکے ہیں۔

المرصد نے 22 اکتوبر کو بتایا تھا کہ شامی حکومت اور داعش کے درمیان طے پائے گئے سمجھوتے کے دوسرے مرحلے پر عمل درامد کے واسطے کوششیں ابھی تک جاری ہیں۔ اس کے تحت السویداء سے اغوا کیے جانے والے افراد کی دوسری کھیپ کو رہا کیا جائے گا۔ داعش نے ان افراد کو شامی حکومت کی قید میں موجود مزید خواتین کی رہائی کے واسطے اغوا کیا تھا۔ سمجھوتے میں 2.7 کروڑ امریکی ڈالر کی رقم داعش تنظیم کے حوالے کرنے کی شرط بھی شامل ہے۔

المرصد کے مطابق ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ افراد کے تبادلے کے دوسرے مرحلے میں تاخیر کی وجوہات خالص لوجسٹک نوعیت کی ہیں۔ لہذا آئندہ چند گھنٹوں یا چند دنوں کے اندر اس پر عمل درامد مکمل ہو جائے گا۔ داعش تنظیم اپنے پاس زیر حراست 21 مغوی افراد میں سے نئی کھیپ کو رہا کرے گی۔ اس کے مقابل شامی سرکاری حکام اُن خواتین کی مزید تعداد کو آزاد کرے گی جن کی رہائی کا مطالبہ تنظیم نے سمجھوتے کو پورا کرنے کے لیے بطور شرط رکھا تھا۔