.

عراق شام سرحد پر الحشد الشعبی ملیشیا کے وجود میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں انبار صوبے کے مغربی حصّے میں شیعہ ملیشیا "الحشد الشعبی" کے کمانڈر نے اعلان کیا ہے کہ عراق اور شام کی سرحد پر ملیشیا کی فورسز کے مزید دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔ مذکورہ کمانڈر نے ہفتے کے روز "الحشد" ویب سائٹ کو دیے گئے ایک بیان میں واضح کیا کہ یہ اقدام سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے بعض چیک پوائنٹس کے دہشت گرد تنظیم داعش کے قبضے میں چلے جانے کے بعد کیا گیا ہے۔

ملیشیا کے کمانڈر کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران خراب موسم کے نتیجے میں ایس ڈی ایف کے چیک پوائنٹس کو داعش کی دہشت گرد ٹولیوں نے حملے کا نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں ایس ڈی ایف پیچھے ہٹ گئیں اور شام کے ساتھ سرحد پر خلا پیدا ہو گیا۔

کمانڈر نے مزید بتایا کہ "ان چیک پوائنٹس کو آگ لگا دی گئی اور ایس ڈی ایف کا امریکیوں کے ساتھ انخلاء دیکھنے میں آیا۔ علاوہ ازیں شام کی سرحد پر واقع الباغوز گزر گاہ کی بندش کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے، اس گزر گاہ کو امریکی استعمال میں لا رہے تھے"۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "کسی بھی ہنگامی امر کے اندیشے کے سبب سرحدی فورسز اور فوج کے درمیان بڑے پیمانے پر رابطہ کاری موجود ہے۔ ہماری جانب سے عراق شام سرحد کو محفوظ بنانے کے ضروری اقدامات کر لیے گئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے عراقی سرحدی فورسز کو راکٹوں سے لیس کر دیا گیا ہے"۔