.

موبائل فون جو فلسطینی صحافی کو یقینی موت سے بچا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جُمعہ کے روز فلسطین کے علاقے رام اللہ میں فلسطینیوں کے ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران ایک عجیب واقعہ دیکھنے میں آیا، جب اسرائیلی فوجیوں کی طرف سے کی گئی فائرنگ سے ایک گولی فلسطینی نوجوان کے موبائل فون پرآلگی جو اس وقت اس کے کان کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ اگر اس وقت اس کے کان سے موبائل نہ ہوتا تو وہی گولی صحافی کی شہ رگ پھاڑتی ہوئی اس کی زندگی تمام کردیتی مگر موبائل فون اس کی زندگی بچا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کے روز نماز جمعہ کےبعد غرب اردن کے وسطی علاقے رام اللہ میں مزرعہ کے علاقے میں پیش ایا جہاں فلسطینی اپنی مغصوبہ اراضی کی واپسی کے لیے مظاہرہ کر رہے تھے۔

محمد شریتح ایک مقامی صحافی ہیں۔ وہ اپنا کیمرہ اٹھائے اس مظاہرے کی کوریج کے لیے ایک نقطہ تماس پر پہنچے۔ فلسطینی مظاہرین ریلی کی شکل میں آگے بڑھے تو اسرائیلی فوج کی طرف سے فائرنگ شروع ہو گئی۔

محمد شریتح اور دیگر صحافی مظاہرے کی کوریج کررہے تھے اور گولیاں ان کے آس پاس اور سروں سے گذر رہی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ ہمارے سامنے ایک فلسطینی نوجوان کو گولی لگی اور وہ زخمی ہونے کے بعد زمین پر گر گیا۔ ہم کیمرے لے کر اس کی طرف بڑھے۔ موبائل فون میرے کان کے ساتھ تھا اور میں کسی سے ٹیلیفون پر بات کررہا تھا۔

زخمی خون میں لت پت تھا، اسے اٹھا کر ایک مقامی اسپتال لے جایا گیا۔ اس دوران اسرائیلی فوج کی ایک گولی اسے آ لگی جس کے نتیجے میں وہ بھی معمولی زخمی ہوگیا۔

محمد شریتح کا کہنا ہے کہ گولی موبائل فون کو پارکرتے ہوئےاس کی گردن میں پیوست ہوگئی۔ مجھے زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے میری جیب سے موبائل فون نکالا اور دیکھ کر حیران رہ گئے کہ گولی موبائل فون سے گذری تھی۔ اگر موبائل فون نہ ہوتا وہ گولی اس کی گردن سے پار ہوجاتی جو اس کے لیے جان لیوا ہوسکتی تھی۔

محمد شریتح کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز اس مظاہرے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی نوجوان شہید اور 9 زخمی ہوگئے تھے۔