.

عراق نے غیر ملکی کرنسی ایران کے حوالے کرنے سے کیوں انکار کر دیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے مرکزی بینک نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے چہلم میں شرکت کرنے والے ایرانیوں کے اخراجات کے سلسلے میں ڈالر اور عراقی دینار کی صورت میں مطلوبہ رقوم کی فراہمی کے لیے ایران کے ساتھ مالی تعاون کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس بات کا انکشاف ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو کیا۔

ایران کے مرکزی بینک کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری رپورٹ میں بھی بتایا گیا ہے کہ عراق نے ایرانی حکام کی اس تجویز کو مسترد کر دیا جس میں غیر ملکی اور قومی کرنسی حوالے کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

ایرانی مرکزی بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد رضا حسین زادہ کے مطابق ایران نے عراق کے مرکزی بینک سے درخواست کی تھی کہ نجف اور کربلا کے صوبوں وار ایران کے ساتھ سرحدی راستوں پر رقوم کو تبدیل کرانے کے لیے 250 ایرانی مراکز کھولنے کی اجازت دی جائے۔ تاہم عراقی حکام نے اس درخواست کو مسترد کر دیا تا کہ ایران کے خلاف امریکا کی اقتصادی پابندیوں سے بچا جا سکے۔

ایرانی مرکزی بینک کے بیان میں مزید بتایا گیا کہ عراق نے ایرانی زائرین کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے 200 عرب عراقی دینار یعنی 16.6 کروڑ امریکی ڈالر کے مساوی رقم منتقل کرنے سے بھی انکار کر دیا۔

اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے عراقی ٹریڈ بینک کی ایک شاخ کے ڈائریکٹر احمد علی صراخ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں عراقی مرکزی بینک کے اقدامات کی تائید کی۔ صراخ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ایران کے خلاف امریکی اقتصادی پابندیوں کی لپیٹ میں آنے سے بچنا ہے۔

دوسری جانب کربلا یونیورسٹی میں ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس کے پروفیسر ڈاکٹر امیر الموسوی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ڈالر کے مقابل ایرانی ریال کی شدید گراوٹ نے عراقیوں کے نزدیک ایرانی کرنسی کا اعتبار کھو دیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران چہلم کے موقع پر ایرانی مرکزی بینک عراقی حکام کی موافقت سے اے ٹی ایم مشینیں فراہم کرتا تھا تا کہ نجف، کربلا اور عراقی سرحد کے نزدیک علاقوں میں مالی رقوم کی تبدیلی کے عمل کو سپورٹ کیا جا سکے۔

ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر اور وڈیوز میں نجف میں ایرانی شہری مالی رقوم کے واسطے ایک پرانی عمارت کے پیچھے کھڑے نظر آ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ایران ہر سال چہلم کے موقع کو عراق میں میڈیا میں اور سیاسی سطح پر اپنے اثر و رسوخ کو مضبوط کرنے کے واسطے استعمال کرتا رہا ہے۔ اس موقع پر ایران میں چالیس برسوں سے جاری ملائی حکمراں نظام کی بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔