.

لیبیا کے ایک قصبے پر داعش کا خون ریز حملہ ، 4 افراد ہلاک اور متعدد اغوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں داعش تنظیم نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب الجفرہ ضلعے کے قصبے "الفقہاء" کو حملے کا نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں قصبے کی میونسپل کونسل کے سربراہ کے بیٹے سمیت 4 افراد ہلاک ہو گئے۔ علاوہ ازیں متعدد پولیس اہل کاروں کو بھی اغوا کر لیا گیا۔

الجفرہ کی بلدیاتی کونسل نے پیر کی صبح بتایا کہ داعش تنظیم کے عناصر نے الفقہاء قصبے پر حملے کے دوران 25 مسلح گاڑیوں کا استعمال کیا۔

حملہ آوروں نے ایک پولیس اسٹیشن، شہری دفاع کے مرکز، بلدیاتی محافظین کے صدر دفتر اور المدار موبائل فون نیٹ ورک کے اسٹیشن کو نذر آتش کر دیا۔

بلدیاتی کونسل کے مطابق داعشی دہشت گردوں نے مقامی آبادی میں دہشت پھیلا کر علاقے سے واپسی کی راہ لی۔ اس دوران بعض گھروں کو آگ لگا دی گئی اور متعدد نوجوانوں کو اغوا کر لیا گیا جن کی درست تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔

الفقہاء کی بلدیاتی کونسل کے سربراہ نے علاقے کی صورت حال کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے فوج سے مطالبہ کیا کہ وہ حملہ آوروں کا تعاقب کرے۔

یاد رہے کہ داعش کے اس حملے سے دو ہفتے قبل لیبیا کی فوج نے ملک میں تنظیم کے ایک اہم لیبیائی رہ نما جمعہ القرقعی کو گرفتار کر لیا تھا۔

ادھر الجفرہ کے حلقے سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ اسماعیل الشریف نے دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی داعشی رہ نما جمعہ القرقعی اور ان کے ساتھی علی عبدالغنی الفیتوری کے پکڑے جانے کے جواب میں کی گئی ہے۔ دونوں افراد کو 16 اکتوبر کو الفقہاء کے نزدیک واقع الہاروج کے پہاڑی سلسلے سے حراست میں لیا گیا تھا۔ الشریف کا مزید کہنا تھا کہ "ہم پہلے ہی اس بات سے خبردار کر چکے ہیں کہ الہاروج کے علاقے میں سکیورٹی کی صورت حال انتہائی کمزور ہے۔ یہ علاقہ اُن تمام تنظیموں اور ٹولیوں کی پناہ گاہ ہے جو اغوا، قتل، منشیات اور انسانوں کی تجارت میں ملوث ہیں"۔