.

یمن : پٹرولیم مصنوعات لے کر سعودی آئل ٹینکر عدن کی بندر گاہ پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کے عطیے کی پہلی کھیپ لے کر سعودی آئل ٹینکر پیر کے روز یمن کے جنوبی شہر عدن کی بندر گاہ پہنچ گیا۔ یمن میں تعمیر نو اور ترقی سے متعلق پروگرام کے ضمن میں سعودی عرب ماہانہ 6 کروڑ ڈالر مالیت کی پٹرولیم مصنوعات یمن کو فراہم کرے گا۔ اس کا مقصد یمن کے تمام آزادہ کرائے گئے صوبوں میں بجلی کے پاور اسٹیشنوں کو ڈیزل اور میزوٹ ایندھن فراہم کرنا ہے۔

تیل کی کمپنی نے 10 صوبوں میں 64 پاور اسٹیشنوں کو 62 ہزار ٹن ڈیزل اور 25 ہزار ٹن میزوٹ ایندھن کی تقسیم شروع کر دی ہے۔ یمنی حکومت کے زیر نگرانی اس کارروائی کے نتیجے میں 85 لاکھ سے زیادہ یمنی شہری مستفید ہو سکیں گے۔

اس موقع پر یمن میں سعودی سفیر محمد بن سعید آل جابر نے کہا کہ "خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کے عطیے کے سلسلے میں پہلی امدادی کھیپ آج پہنچ گئی ہے۔ یمن میں ترقی کا سفر ایران نواز حوثی ملیشیا کی جانب سے سیاسی حل پر آمادگی کا منتظر نہیں"۔

آل جابر کے مطابق یمن کی ترقی اور تعمیر نو سے متعلق سعودی عرب کا پروگرام اس بات کی دلیل ہے کہ مملکت برادر یمنی عوام کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے یمن کی مدد کرنے میں کتنا زیادہ سنجیدہ ہے"۔

سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ "آپ ایران نواز حوثی ملیشیا کی جانب سے پھیلائی جانے والی تباہی اور بربادی بھی دیکھ رہے ہیں اور دوسری جانب مملکت کی طرف سے ترقی اور تعمیر نو کی کاوشیں بھی ... دونوں جانب کے ویژن میں فرق بہت واضح ہے"۔

یاد رہے کہ یمن کی حکومت اور یمن کے لیے سعودی عرب کا ترقیاتی اور تعمیر نو کا پروگرام ،،، ان دونوں کے درمیان اس بات پر اتفاق رائے طے پا چکا ہے کہ ایک مقامی کمیٹی کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے ایندھن کی تقسیم عمل میں آئے گی۔ یہ کمیٹی تیل کی کمپنی کے ایک خود مختار نمائندے کے علاوہ یمن میں ترقی و تعمیر نو سے متعلق سعودی پروگرام، بجلی کی کمپنی، نگرانی کے مرکزی ادارے، چیمبر آف کامرس اور سول سوسائٹیز کی تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔