.

'صدی کی ڈیل' سازش ہے جسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا: محمود عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے امریکا کی طرف سے فلسطین ۔ اسرائیل تنازع کے حل کے حوالے سے مجوزہ امن منصوبے "صدی کی ڈیل" کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اعلان بالفور سمجھوتا گذر گیا مگر صدی کی ڈیل کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

صدر عباس نے رام اللہ میں منعقدہ مرکزی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اعلان بالفور ہی مسئلے کی جڑ ہے۔ اعلان بالفور ہوچکا مگر صدی کی ڈیل نہیں ہونے دی جائے گی۔

خیال رہے کہ برطانوی وزیر خارجہ لارڈ ارتھر بلفورڈ نے 1917ء کو فلسطین میں‌یہودیوں کے قومی وطن کے قیام کی منظوری دی تھی جسے "اعلان بالفور" کا نام دیا گیا۔

فلسطینی صدر نے مرکزی کونسل کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس وقت تاریخ کے نازک مرحلے میں ہیں۔ آپ کو نئی ڈیل کے خطرات کے بارے میں باخبر رہنا ہوگا۔ امریکا ایک یا دو ماہ میں یہ منصوبہ پیش کردے گا،مگر ہم یہ باور کراتے ہیں کہ امریکا کے کسی سازشی منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

انہوں‌نے امریکا کی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکیوں نے بیت المقدس اسرائیل کے حوالے کیا، امریکی سفارت خانہ القدس منتقل کیا گیا، فلسطینی پناہ گزینوں کے مالی حقوق غصب کیے۔ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد 60 لاکھ سے کم کر کے صرف 40 ہزار کرنا چاہتےہیں۔

انہوں‌نے غزہ کی حکمران حماس پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ حماس دشمن کے افکار کے ساتھ مل کر غزہ کو الگ ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دشمن یہ چاہتا ہے کہ غزہ اور غرب اردن کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ کردیا جائے، حماس دشمن کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔

صدر عباس نے کہا کہ القدس اور فلسطین برائے فروخت املاک نہیں۔ غزہ کی پٹی کے بغیر فلسطین نامکمل ہے۔ ہم عبوری سرحدوں پر مشتمل ریاست کی کسی تجویز کو قبول نہیں کریں‌ گے۔

انہوں‌نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے اہل خانہ اور شہداء کے خاندانوں کی کفالیت جاری رکھی جائے گی۔