.

ایران: خاتمی کے ساتھ تصویر پر مذہبی شخصیت کو وارننگ نے تنازع کھڑا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکمراں نظام کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے والے ایک عالم دین آیت اللہ موسی شبیری زنجانی کی متعدد اصلاح پسند رہ نماؤں کے ساتھ تصاویر نے تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ زنجانی سے ملاقات کرنے والوں میں محمد خاتمی، محمد موسوی خوئینی، غلام حسين كرباسچی، عبد الله نوری شامل ہیں۔ اس واقعے نے ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ کے مقرّب سخت گیر عناصر کو چراغ پا کر دیا۔

ان تصاویر کے سامنے آنے کے چند گھنٹوں بعد "جامعہ مدرسین حوزه علمیّہ قُم" کی سپریم کونسل کے سربراہ محمد یزدی نے علامہ زنجانی کو ایک تحریری خط بھیجا جس میں اس طرح کی "غلطی" کی عدم تکرار کا مطالبہ کیا۔ یزدی آٹھ برس تک ایرانی عدلیہ کے سربراہ رہے۔ وہ اس وقت ایران کی مجلس خبرگان رہبری کے رکن بھی ہیں۔

یزدی نے اپنے خط میں لکھا کہ "اسلامی جمہوریہ اور رہبرِ اعلی کے مقام کا احترام نہ کرنے والی شخصیات کے ساتھ زنجانی کی ملاقات کی تصایر منظر عام پر آنے کے نتیجے میں حوزہ علمیہ کے حلقوں اور طلبہ کے اندر ناراضی کی لہر دوڑ گئی"۔

یزدی نے زنجانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "میں نے بعض معاملات کے حوالے سے استفسار کے سلسلے میں آپ کو دو مرتبہ تحریر بھیجی تاہم آپ کی جانب سے تسلی بخش جواب موصول نہیں ہوا۔ براہ کرم ضروری اقدامات کیے جائیں تا کہ اس طرح کی ملاقاتیں دوبارہ نہ ہوں"۔

جماران نیوز ویب سائٹ کے مطابق اس متنازع خط کے تحریر کیے جانے کے بعد محمد یزدی کے خلاف اُن کی جامعہ سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں آیت اللہ محمد عندلیب ہمدانی نے یزدی کے خط پر احتجاجا "جامعہ مدرسین حوزه علمیّہ قُم" سے نکل جانے کا اعلان کیا ہے۔ بعض شخصیات نے زنجانی کے نام یزدی کے خط کو "توبیخ و زجر" پر مبنی قرار دیا ہے۔

ایران میں اصلاح پسند کارکن مصطفی تاج زادہ نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ "مذہبی شخصیات پر تنقید ہر شہری کا حق ہے تاہم محمد یزدی کو مذہبی یا عوامی سطح پر وہ مقام حاصل نہیں کہ وہ آیت اللہ شبیری زنجانی پر روک لگائیں۔ یزدی کو جان لینا چاہیے کہ شیعہ مذہبی مراجع کو دھمکانے اور ڈرانے کا زمانہ بیت چکا ہے".