.

جبری حجاب کے خلاف ایران میں عوام ایک بار پھر سراپا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں مذہبی انتہا پسندوں کی حکومت کی طرف سے خواتین پر جبری حجاب مسلط کیے جانے خلاف عوام ایک بار پھر سراپا احتجاج ہیں۔

العربیہ ڈاٹ کے مطابق حالیہ ایام جہاں مختلف شہروں میں‌جبری حجاب کے خلاف خواتین کے احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں وہیں کئی خواتین کو جبری حجاب ترک کرنے پر حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

ادھر دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی خواتین کی جانب سے جبری حجاب کے خلاف مہم تیز کردی ہے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ بہ طورپر احتجاج سر سے دوپٹا اتارنے اور اسے ہوا میں لہرانے والی خواتین کی پکڑ دھکڑ کی جا رہی ہے۔

حال ہی میں ایک خاتون نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی جس میں اس نے جبری حجاب کے خلاف بہ طور احتجاج اپنا دوپٹا ہوا میں لہرا دیا تھا۔ پولیس نے خاتون کی نشاندہی کے بعد اسے گرفتار کر لیا۔

سوشل میڈیا پر حالیہ ایام میں ایسی کئی تصاویر اوروڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں جن میں خواتین کو ہاتھوں میں غبارے اٹھائے، دوپٹے لہراتے اور جبری حجاب اور نقاب کے خلاف نعرےلگاتے دیکھا جاسکتا ہے۔ احتجاج کرنے والوں میں خواتین کے ساتھ مرد بھی شامل ہیں اور وہ ایرانی پولیس کے خلاف بھی نعرے بازے کرتے ہیں۔

گذشتہ برس 27 دسمبر کو 31 ساکی ویدا موحدی کی شاہراہ انقلاب پر دوپٹا لہرانے کی تصویر سامنے آنے کے بعد ایرانی پولیس اب تک 31 خواتین کو حجاب کے خلاف احتجاج کرنے کی پاداش میں حراست میں لے چکی ہے۔