سعودی ڈاکٹر نے 30 برس بعد اپنے پرائمری ٹیچر کا آپریشن کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں ہڈیوں کے ایک سرجن نے اپنے پرائمری اسکول کے ایک استاد کا آپریشن کیا جو اُسے پہلی جماعت میں پڑھایا کرتے تھے۔

مذکورہ استاد نے 30 برس کے وقفے کے بعد اپنے طالب علم ڈاکٹر احمد القرنی کو ڈھونڈ نکالا اور رابطہ کر کے آپریشن کی درخواست کی۔ ڈاکٹر قرنی ہڈیوں کی سرجری کے کنسلٹنٹ اور اسپورٹس انجری کے اسپیشلسٹ ہیں۔

ڈاکٹر قرنی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے طویل عرصے کے بعد استاد کی جانب سے رابطے کو اپنے لیے قابل صد افتخار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "میرے استاد عبید القرنی کو گھٹنے کی تکلیف تھی۔ میں نے کلینک میں اُن سے ملاقات کی اور ہم اسکول کے زمانے کی یادوں میں گُم ہو گئے۔ اس دوران ساتھی طلبہ اور تمام اساتذہ کا ذکر آیا۔ بعد ازاں میں نے ان کے تمام مطلوبہ ٹیسٹ کروائے اور پھر آپریشن کیا"۔

ڈاکٹر قرنی کہتے ہیں کہ "میرے استاد نے میری پیشہ وارانہ زندگی میں کامیابیوں پر بے حد مسرت کا اظہار کیا۔ آپریشن کے بعد میں اُن کے پاس گیا اور ایک یادگاری تصویر بنوائی تا کہ اس عظیم لمحے کو محفوظ کر لوں جو میرے لیے ہمیشہ باعث اعزاز رہے گا"۔

اس حوالے سے استاد عبید القرنی نے اپنے طالب علم کی کاوش کو گراں قدر قرار دیتے ہوئے آپریشن کرنے پر اظہار تشکر کیا۔ معلّم عبید نے اس امر پر فخر کا اظہار کیا کہ اُن سے تعلیم حاصل کرنے والا طالب علم آج سعودی عرب میں امتیازی مقام کا حامل طبیب ہے"۔

ڈاکٹر احمد القرنی نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ "محترم فاضل استاد عبید القرنی.. میرے پرائمری کے ٹیچر .. طویل برسوں بعد ہم دوبارہ ملے مگر اس مرتبہ ملاقات مریض اور طبیب کے درمیان تھی۔ آج اُن کے گھٹنے کا آپریشن کیا گیا۔ الحمد للہ ،،، میرے استاد صدا سلامت رہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں