.

فلسطینی مرکزی کونسل نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی مرکزی کونسل نے اسرائیل کو بہ طور ریاست تسلیم کیے جانے کا فیصلہ معطل کرنے، اسرائیل کے ساتھ جاری سیکیورٹی تعاون ختم کرنے اور صہیونی ریاست اور امریکا کے خلاف کئی دیگر اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ معطل کرنے کا اعلان کیا گیا اور اس کی حتمی منظوری اور عمل درآمد تنظیم آزادی فلسطین کرے گی۔

کونسل کے 30 ویں اجلاس میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے تک معطل کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام سیکیورٹی ادارے اسرائیل کے ساتھ مل کر فلسطینی مزاحمتی کارروائیوں کی روک تھام میں سرگرم رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدر عباس کی ماتحت ملیشیا کو اسرائیلی فوج کی غرب اردن میں"بی ٹیم"بھی کہا جاتا ہے۔

مبصرین کا کہناہے کہ اگر فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون روک دیا تو اس کے نتیجے میں صہیونی فوج کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں اور تشدد کے واقعات میں اضافہ بھی ممکن ہے۔

خیال رہے کہ فلسطینی مرکزی کونسل کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ معطل کرنے کا اعلان جنوری 2015ء میں بھی کیا گیا تھا مگر اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

گذشتہ روز ایک بار پھر مرکزی کونسل نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا اعلان کیا اور کہا کہ جب تک اسرائیل سنہ 1967ء کی حدود میں فلسطینی مملکت کو تسلیم نہیں کرتا اسرائیل کو بھی ایک آئینی ریاست کے طورپرقبول نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ کونسل نے اسرائیل کے ساتھ جاری سیکیورٹی تعاون بھی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کونسل کے فیصلوں میں پیرس میں طے پانے والا اقتصادی سمجھوتہ بھی ختم کردیا گیا اور کہا گیا ہے کہ موجودہ عبوری دور میں یہ سمجھوتہ غیر موثر ہوچکا ہے۔ کونسل نے اپنے فیصلوں پرعمل درآمد کے لیے صدر محمود عباس اور پی ایل او کو اقدامات کی سفارش کی ہے۔ دو روز قبل صدر عباس نے رام اللہ میں ہونے والی مرکزی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا تھا کہ "صدی کی ڈیل" اعلان بالفور کی طرح ایک سازش ہے اور اہم اسے کسی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیں ‌گے۔

ٌخیال رہے کہ فلسطینی مرکزی کونسل کا قیام 1973ء میں فلسطین نیشنل کونسل سے قبل عمل میں لایا گیا تھا۔ یہ کونسل اہم نوعیت کے آئینی اقدامات اور فیصلے کرنے مجاز ہے اور تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹو کمیٹی اس کے فیصلوں اور قراردادوں پرعمل درآمد کی پابند ہے۔ سنہ1993ء میں اوسلو معاہدے کے بعد فلسطینی اتھارٹی کےقیام کا فیصلہ بھی مرکزی کونسل نے کیاتھا جس کے بعد اسرائیل نے غزہ اور غرب اردن کے بعض علاقوں کے جزوی اختیارات فلسطینی اتھارٹی کو سونپ دیے تھے۔