.

یمنی فوج کی الحدیدہ میں پیش قدمی ، صعدہ میں اہم پہاڑی علاقے پر کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سرکاری فوج نے مغربی ساحل کے علاقے میں اپنی پیش قدمی جاری رکھی۔ اس دوران کئی محاذوں پر حوثی ملیشیا کے خلاف لڑائی میں باغیوں کو درجنوں ارکان کے ہلاک اور زخمی ہونے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

زمینی ذرائع کے مطابق پیر کے روز معرکوں کا دائرہ الحدیدہ میں ہوائی اڈے کے شمال میں واقع علاقوں الحدیدہ یونی ورسٹی کے اطراف تک پھیل گیا۔ اس دوران یمنی فوج کو عرب اتحاد کے طیاروں کی معاونت حاصل رہی۔

ادھر یمنی فوج کے العمالقہ بریگیڈز الحدیدہ کے مشرقی داخلی راستے کے نزدیک "کیلو 16" کے علاقے میں داخل ہو گئے۔ اس دوران حوثی ملیشیا کے حملوں کی کوششوں کو پسپا کر دیا گیا۔ اتحادی طیاروں نے الحدیدہ شہر کے مشرق میں "کیلو 16" اور "کیلو 10" کے علاقوں میں حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں پر حملے کیے۔ اس دوران 30 کے قریب باغی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

دوسری جانب سرحدی صوبے صعدہ کے شمال مغربی ضلعے الظاہر میں یمنی فوج الملاحیط کے محاذ پر نئی اور اہم پہاڑیوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

یہ کامیابی حوثی ملیشیا کے خلاف گھمسان کی لڑائی کے بعد سامنے آئی۔

یمنی فوج کے ایک کمانڈر عبدالکریم السعدی نے بتایا کہ اُن کی فورسز نے عرب اتحاد کی سپورٹ سے الملاحیط اور مران کے پہاڑوں کے درمیان حوثی ملیشیا کی سپلائی لائن کو منقطع کر دی۔ یہ علاقہ حوثی ملیشیا کے سرغنے عبدالملک الحوثی کا گڑھ ہے۔

یاد رہے کہ یمنی فوج کئی ماہ سے الظاہر ضلعے میں معرکوں میں مصروف ہے۔ اس دوران ضلعے کے اکثر علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا گیا اور مران کے پہاڑی علاقے کی جانب پیش قدمی عمل میں آئی ہے۔ یہ علاقہ صعدہ صوبے میں حوثی ملیشیا کا ایک اہم ترین عسکری گڑھ شمار کیا جاتا ہے۔