.

ایران: انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے وکلاء کو جیل اور کوڑوں کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں انسانی حقوق کے مرکز (CHRI) نے اسلامی انقلاب کی عدالتوں کی جانب سے جاری اُن فیصلوں کی سخت مذمت کی ہے جن میں انسانی حقوق اور سیاسی بنیادوں پر گرفتار افراد کا دفاع کرنے والے متعدد وکلاء کو جیل اور کوڑے مارے جانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

عدالت نے ایڈوکیٹ محمد نجفی کو تین سال قید اور 74 کوڑوں کی سزا سنائی ہے۔ ان پر قومی امن کو خراب کرنے، ریاست کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور جھوٹ پر مبنی مواد پھیلانے کے الزامات ہیں۔ نجفی نے مظاہرے کے دوران گرفتار کیے گئے ایک نوجوان کے کیس کا دفاع کیا تھا جو رواں برس کے آغاز پر ایک حراستی مرکز میں پراسرار طور پر فوت ہو گیا تھا۔

مذکورہ مرکز نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کریک ڈاؤن کو ختم کریں اور دیگر وکلاء کو رہا کریں جن کو اپنے فرائض کی انجام دہی پر جیل بھیج دیا گیا۔ ان وکلاء میں ہدى عميد، آراش كيخوسرافی، قاسم شعلہ سعدی، عبد الفتاح سلطانی، نسرين سوتوده، بايام درافشاں اور فروخ فروزاں شامل ہیں۔

ایرانی انسانی حقوق کے مرکز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہادی قائمی کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نہ صرف مدعیان کو قابو کر رہے ہیں بلکہ وہ ان کے وکلاء پر بھی کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

جنوری 2018ء میں ایڈوکیٹ محمد نجفی نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ایرانی حکام مظاہرے میں گرفتار کیے گئے 22 سالہ نوجوان وحید حیدری کی موت کی وجوہات پر پردہ ڈال رہے تھے جو اراک شہر میں داخلہ سکیورٹی کے ایک مرکز میں فوت ہو گیا تھا۔ ایرانی حکام کا دعوی تھا کہ حیدری نے خود کشی کی۔

محمد نجفی چھٹے وکیل ہیں جو اپنی قانونی ذمّے داریوں کو انجام دینے کی پاداش میں سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیے گئے۔

ستمبر میں ہیومن رائٹس واچ میں مشرق وسط اور شمالی افریقہ ریجن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ لیا واٹسن کا کہنا تھا کہ "ایرانی حکام شہریوں کے بنیادی حقوق کے دفاع کے "جرم" میں درجنوں وکلاء کو جیل بھیج کر مقامی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے اعتبار کو مسلسل تباہ کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان کو تو مسائل کے حل کے لیے بنیادی جزو بننا چاہیے نہ کہ انہیں حکومتی کریک ڈاؤن کا مرکزی ہدف بنایا جائے"۔

ایرانی حکام نے 18 اگست کو ایڈوکیٹ قاسم شعلہ سعدی کو گرفتار کر لیا تھا کیوں کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے کا ارادہ کیا تھا۔ یہ احتجاج عام انتخابات پر ایرانی شوری نگہبان کے کنٹرول کے خلاف تھا۔ حکام نے پر امن احتجاج میں سعدی کے ہمراہ شریک وکیل علی کیخسروی کو بھی حراست میں لے لیا تھا۔

رواں برس جون ممیں نسرین ستودہ کو گرفتار کر لیا گیا جنہوں نے ایرانی خاتون شابرک شجری زادہ کا دفاع کیا تھا۔ شابرک پر الزام تھا کہ اُس نے ملک میں لازمی حجاب کے قانون پر احتجاج کرتے ہوئے رواں برس جنوری میں اعلانیہ طور پر اپنا حجاب اتار دیا تھا۔

ایرانی انسانی حقوق کے مرکز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہادی قائمی کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے وکلا کو اپنے مؤکلین کے دفاع کی کوشش پر جیل بھیجنا اور کوڑے مارنا یہ تمام تر بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ اس غیر قانونی برتاؤ کی سختی کے ساتھ مذمّت کرے اور ان وکلاء کی رہائی کا مطالبہ کرے"۔