.

داعش تنظیم اور عراقی سکیورٹی افسران کے درمیان تعلق کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش تنظیم نے عراقی جیلوں میں قید اپنے بعض ارکان کی رہائی کے لیے جیلوں کے بدعنوان عراقی عہدے داران کو مالی رقوم ادا کیں۔ اس بات کا انکشاف مسلح جماعتوں کے امور کے ماہر ہشام الہاشمی نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کیا ہے۔

عراق کے صوبے نینوی میں قیدیوں اور شہداء کے امور سے متعلق داعش کی کمیٹی کی جانب سے جاری ایک دستاویز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سوسہ جیل میں قید داعش تنظیم کے ایک رکن مثنی عبدالجبار اسماعیل کی رہائی کے لیے 5000 ڈالر کی رقم کا مطالبہ کیا گیا۔ اس ڈیل میں عراقی وزارت انصاف کے دفتر کا اہل کار سلام محمد تحسین شامل تھا۔

ایک دوسری دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ عراقی ایڈوکیٹ علی حسین المعینی نے الناصریہ جیل میں قید شخص عامر خطاب کی رہائی کی کوشش کے لیے داعش تنظیم سے 1500 ڈالر اینٹھ لیے۔

دیالی صوبے میں داعش کی انتظامیہ کی مہر لگی ایک دستاویز سے معلوم ہوا ہے کہ متعدد افسران اور وکیلوں کے واسطے 7400 ڈالر کے قریب رقم طلب کی گئی۔ یہ رقم مختلف الزامات میں داعش کے سولہ سزا یافتہ ارکان پر سے عدالتی احکامات ختم کروانے کے لیے دی گئی۔

اس حوالے سے سیاسی تجزیہ کار سند الشمری نے بتایا کہ شواہد اور دستاویزات کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ دیگر بد دیانتی کے سلسلے سے خبردار رہے جو 2014ء کی طرح مغربی صوبوں کے امن و امان کو ہلا سکتی ہیں۔ الشمری کے مطابق سکیورٹی اداروں کو بدعنوان عناصر سے پاک کرنا لازم ہو چکا ہے ،،، داعش سے آزاد کرائے جانے والے علاقوں میں سکیورٹی فُول پروف نہیں ہے لہذا دیالی، کرکوک، موصل اور صلاح الدین کے اطراف علاقوں میں جغرافیائی حالات کا فائدہ اٹھا کر تنظیم کی واپسی ممکن ہو سکتی ہے۔

ادھر مسلح جماعتوں کے امور کے ماہر ہشام الہاشمی کا کہنا ہے کہ داعش تنظیم نے اپنی صفوں کی از سر نو تنظیم کے واسطے نئی ترکیب کا استعمال شروع کر دیا ہے اور وہ عراق اور شام میں اپنی پے در پے شکستوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے کوشاں ہے۔ تنظیم نے اپنے ڈھانچے کی تشکیل نو کے سلسلے میں فنڈنگ کے طریقوں میں تبدیلی کی ہے اور اب وہ مجرمانہ کارروائیوں کے ذریعے خود مال حاصل کرنے پر انحصار کر رہی ہے۔

الہاشمی کے مطابق مالی بحران کے آثار داعش تنظیم کے اقدامات سے واضح ہو رہے ہیں جو عراق اور شام میں آئل فیلڈز سے ہاتھ دھو چکی ہے۔ تنظیم بیرونی فنڈنگ کے نیٹ ورکس سے ھی محروم ہو گئی ہے جو ماضی میں خطیر رقوم فراہم کرتے رہے ہیں۔