.

ایران نے جنوبی شام میں جنگجوئوں کی وفاداریاں خرید کرنا شروع کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے جنوبی شام میں سرگرم عسکری گروپوں کی وفاداریاں خریدنے کے ساتھ ساتھ وہاں پر اپنی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے نئی ملیشیا تشکیل دی ہے۔

ایران کی جانب سے شام اور اسرائیل کے درمیانی سرحد پر اپنے جنگجوئوں کو متحرک رکھنے کی یہ نئی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ دوسری جانب عالمی سطح پر ایران اور شام کی سرحد پر کشیدگی کم کرنے کے لیے ایرانی ملیشیا کو وہاں سے بے دخل کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں مگر ایران جنوبی شام میں اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔

اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے دو روز قبل فیلڈ ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایران کی وفادار حزب اللہ ملیشیا اب تک جنوبی شام میں دو ہزار جنگجوئوں کو مائل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ اس سے قبل یہ جنگجو امریکا کے حمایت سمجھتے جاتے رہے ہیں۔

اسی اثناء میں اخبار "الشرق الاوسط" میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درعا کے نواحی علاقے میں قائم للجات کے مقام پرایک کیمپ میں‌ موجود 60 جنگجوئوں کو تربیت دینے کے بعد میدان میں اتارا ہے۔ انہیں ایرانی اور حزب اللہ کے عسکری ماہرین کے زیرنگرانی عسکری تربیت دی گئی۔

امریکا کی طرف سے جنوبی شام میں موجود عسکری گروپوں کی مدد روکے جانے کے بعد ایران اور اسد رجیم نے انہیں اپنی حمایت میں استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ اس سے قبل امریکا ان گروپوں کو داعش کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے۔