.

غزہ کے احتجاجی لیڈروں کی مصالحتی بات چیت کے پیش نظر آج پُرامن مظاہر وں کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ میں اسرائیل کی چیرہ دستیوں کے خلاف احتجاجی تحریک کے لیڈروں نے فلسطینیوں سے آج جمعہ کو سرحدی علاقے میں مظاہرے نہ کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے بجائے پُرامن رہ کر احتجاج کیا جائے۔انھوں نے یہ فیصلہ اسرائیل کے ساتھ ایک طویل المیعاد جنگ بندی کے لیے امن کوششوں کو ایک موقع دینے کی غرض سے کیا ہے۔

ماضی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے ایسی تمام کوششیں ناکامی سے دوچار ہوگئی تھیں۔اسرائیل اور محاصرہ زدہ غزہ کی پٹی کے درمیان سرحدی علاقے میں فلسطینیوں نے صہیونی فوج کی جانب سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کے باوجود 30 مارچ سے مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

دمِ تحریر یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا فلسطینی مظاہرین احتجاجی تحریک کی منتظمہ کمیٹی کی اپیل پر کان دھریں گے یا نہیں ۔انھوں نے جمعہ کو ہفتہ وار احتجاجی مظاہرے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔البتہ کمیٹی کے ایک عہدہ دار نے کہا ہے کہ مظاہرے پُرامن ہوں گے اور مظاہرین اسرائیلی باڑ کے بہت زیادہ قریب نہیں جائیں گے۔اس کا مقصد مصر کی ثالثی کی کوششوں کو ایک موقع دینا ہے تاکہ غزہ کا محاصرہ ختم ہوسکے۔

مصر اور اقوام متحدہ کے حکام غزہ کی پٹی کی حکمراں فلسطینی جماعت حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ بات چیت کررہے ہیں۔مصری وفد حماس کی قیادت سے جنگ بندی پر بات چیت کے لیے جمعرات کو غزہ میں تھا۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے والی کمیٹی حماس سے آزاد ہے۔البتہ اس میں اس اسلامی تحریک کے بعض نمایندے شامل ہیں ۔اس کے زیر اہتمام ہر جمعہ کو ہزاروں فلسطینی سرحدی علاقے میں جمع ہوکر احتجاج کرتے ہیں اور اسرائیلی فوج انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولوں کے علاوہ براہ راست گولیاں بھی چلا دیتی ہے۔

گذشتہ جمعہ کو اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے سات فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔30 مارچ سے اب تک اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 218 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔مظاہرین 1948ء کی جنگ میں اسرائیل کے قیام کے وقت عرب سرزمین سے بے گھر کیے گئے ہزاروں فلسطینی خاندانوں کی واپسی اور غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔