.

شام: رقّہ شہر کی معروف شخصیت کا پراسرار قتل، داعش نے ذمّے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش تنظیم نے شام کے شہر رقّہ میں معروف و معزّز شخصیت شیخ بشیر فیصل الہویدی کے قتل کی ذمّے داری قبول کر لی ہے۔ دہشت گرد تنظیم نے یہ اعلان چند گھنٹے قبل سرکاری طور پر "اعماق" نیوز ایجنسی کے ذریعے کیا۔ اس سے قبل شیخ الہویدی کے قتل میں بشار الاسد کی حکومت کے ملوث ہونے کے حوالے سے شکوک و شبہات گردش میں تھے۔

داعش تنظیم نے بیان میں بتایا ہے کہ اس کے ایک سکیورٹی گروپ نے رقّہ شہر میں سائلنسر لگے ہتھیار کے ذریعے الہویدی کو موت کی نیند سلا دیا۔

بیان میں الہویدی پر "الحاد" اور شہر میں کرد جماعتوں کے ساتھ تعاون کا الزام بھی عائد کیا گیا، ان میں کردستان ورکرز پارٹی شامل ہے۔ داعش نے دھمکی دی ہے کہ الہویدی کے نقش قدم پر چلنے والوں کو آنے والے دنوں میں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔

ادھر کرد اور عرب مسلح گروپوں کے اتحاد "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" (ایس ڈی ایف) نے اپنے ایک بیان میں شیخ الہویدی کے قتل کو داعش تنظیم کے کھاتے میں ایک اور جرم قرار دیتے ہوئے اپنے گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شیخ الہویدی العفادلہ قبیلے کی چوٹی کی شخصیات میں سے تھے ،،، اور رقّہ شہر کی تعمیر نو کے لیے شہر کی کونسل میں اُن کی سماجی خدمات کو ناقابل فراموش ہیں۔

ایس ڈی ایف کے مطابق "داعش تنظیم کی جانب سے رقّہ میں خود اور انارکی پھیلانے کی کوششوں کے باوجود ہم اس شہر میں رہنے والوں اور اب تک حاصل ہونے والی پیش قدمی اور ترقی کا دفاع کریں گے"۔

واضح رہے کہ رقّہ شہر کے وسطی علاقے میں پراسرار طور پر اپنی گاڑی میں مقتول حالت میں ملنے والے شیخ الہویدی شامی حکومت کے ساتھ بڑے اختلافات رکھتے تھے۔ وہ رقّہ میں سب سے بڑے عرب قبیلوں میں شمار ہونے والے "العفادلہ" قبیلے کے ایک اہم رہ نما تھے۔ شیخ الہویدی کے کرد لیڈر عمر علّوش کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلقات تھے۔ علّوش بھی رواس سال مارچ میں تل ابیض شہر میں پراسرار حالات میں قتل کر دیے گئے تھے۔