.

اسرائیلی فوج کی یروشلیم میں فلسطینی گورنر کے دفتر پر چھاپا مار کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے مقبوضہ یروشلیم ( مشرقی القدس) میں فلسطینی گورنر کے دفتر پر چھاپا مار کارروائی کی ہے۔اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع علاقے الرام میں اس چھاپا مار کارروائی کی تصدیق کی ہے۔

اسرائیلی حکام نے فلسطینی گورنر عدنان غیث کو 20 اکتوبر کو ایک جائیداد کی متنازع فروخت کے کیس میں گرفتار کیا تھا اور دو دن کے بعد رہا کردیا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی کے یروشلیم امور کے وزیر عدنان الحسینی نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے گورنر کے دفتر سے چھاپا کارروائی کے دوران میں دستاویزات اور مواد قبضے میں لے لیا تھا۔

ان کی وزارت اور گورنر کا دفتر ایک ہی عمارت میں واقع ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے دونوں دفاتر میں چھاپا مار کا رروائی کی ہے۔

فلسطینی حکومت کے ترجمان یوسف محمود نے کہا ہے کہ ’’(اسرائیلی) قبضے کی جانب سے یہ ایک خطرناک اشتعال انگیزی ہے اور تمام بین الاقوامی قوانین اور سمجھوتوں کی خلاف ورزی کی ہے‘‘ ۔

اسرائیل کی داخلی سکیورٹی ایجنسی شین بیت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’’ پولیس اور فوج کی’’ یروشلیم میں فلسطینی اتھارٹی کی غیر قانونی سرگرمی‘‘ کے خلاف مشترکہ چھاپا مار کارروائی ختم ہوگئی ہے اور وہاں سے ضبط کیے گئے مواد کی مختلف سکیورٹی ادارے چھان بین کریں گے‘‘۔

جب شین بیت سے پوچھا گیا کہ فلسطینی اتھارٹی نے یروشلیم میں کیا غیر قانونی سرگرمی انجام دی ہے تو اس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اتھارٹی کی تمام سرگرمی ہی غیر قانونی تھی۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے مشرقی یروشلیم پر 1967ء کی چھے روزہ جنگ کے دوران میں قبضہ کر لیا تھا اور پھر بعد میں اس کو ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا ۔ اسرائیلی حکام اس شہر پر فلسطینی اتھارٹی کی عمل داری کو سرے سے تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں ۔

اب اسرائیل اس تمام شہر پر دعوے دار ہے جبکہ فلسطینی شہر کے مشرقی حصے کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔فلسطینی اتھارٹی کا القدس کے امور کا ایک وزیر ہے ۔اس نے شہر کا ایک گورنر بھی مقرر کررکھا ہے۔ان دونوں کے دفاتر الرام میں واقع ہیں لیکن اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کی شہر میں سرگرمیوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے گذشتہ ماہ ایک شخص کو مشرقی القدس میں ایک یہودی کو جائیداد فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے اسی معاملے پر چھاپا مار کارروائی کی ہے ۔فلسطینی مشرقی القدس میں یہودی آباد کاروں کو جائیدادیں فروخت کرنے کے شدید مخالف ہیں اور جائیداد فروخت کرنے والے فلسطینی کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔