.

اقوام متحدہ کے نئے ایلچی اپنے پیش رو کے طریق کار سے گریز کریں: شام کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام نے کہا ہے کہ اگر اقوام متحدہ کے نئے ایلچی جیر پیڈرسن اپنے پیش رو کے ’’ طریق کار‘‘ سے ا حتراز کریں تو وہ ان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

پیڈرسن کے پیش رو اسٹافن ڈی میستورا چار سال تک اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد اسی ماہ دستبردار ہورہے ہیں۔انھوں نے شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مذاکرات کے متعدد دور کیے تھے لیکن ان کی شام میں جاری بحران کے حل کے لیے کوششیں ثمر بار نہیں ہوسکی تھیں۔

شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے حکومت نواز اخبار الوطن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پیڈرسن ملک کی علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کا عز م ظاہر کرتے اور اپنے پیش رو کے برعکس ’’ دہشت گردوں‘‘ کی حمایت نہیں کرتے ہیں تو ان کے ساتھ تعاون کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ شامی حکومت حزب ِاختلاف کے جنگجوؤں اور باغی گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتی چلی آرہی ہے۔ ڈی میستورا باغی گروپوں سے مذاکرات کے حامی تھے مگر شامی حکومت ان کی مخالفت کرتی رہی ہے اور اسی لیے ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا تھا۔انھوں نے حالیہ مہینوں کے دوران میں جنگ زدہ ملک کے نئے آئین کی تدوین پر زور دیا تھا لیکن شامی حکومت نے ان کے اس مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔

شام میں سنہ 2011ء کے اوائل سےجاری تنازع کے نتیجے میں چار لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ملک کی نصف سے زیادہ آبادی بے گھر ہوکر مہاجرت یا پناہ گزینوں کی زندگی گزار رہی ہے ۔ملک کے بیشتر شہر اور قصبے زمینی اور فضائی حملوں کے نتیجے میں تباہ ہوچکے ہیں۔

پیڈرسن اس سے پہلے لبنان میں 2007ء اور 2008ء میں اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔وہ 1993ء میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان اوسلو معاہدے کے لیے مذاکرات کرنے والی ناروے کی ٹیم کے بھی رکن تھے۔