.

حالات سے تنگ عراقی خاتون اپنے معذوربچے کو بے سہار اچھوڑ کرچلی گئی

عراقی حکومت نے معذور بچے کی فریاد سنی لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں غربت اور تنگ دستی کے باعث ایک خاتون اپنے معذور بچے کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ کرشام میں پناہ گزین کیمپوں میں رہائش اختیار کرنے کے لیے چلی گئی۔ ادھر دوسری جانب عراقی وزارت خارجہ نے معذور بچے کی سوشل میڈیا پر فریاد سامنے آنے کے بعد انہیں وطن واپس لانے کی کوششیں شروع کردیں جس کے بعد معذور بچے اور اس کے 8 سالہ چھوٹے بھائی قیس کو عراق پہنچا دیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عباس نامی بچے کا آدھا جسم مفلوج ہے۔ اس کا اکلوتا سہارا اس کی ماں تھی اور وہ بھی غربت سے تنگ آکر اسے چھوڑ کر چلی گئی۔ یہ لوگ شام میں ایک پناہ گزین کیمپ میں رہائش پذیر ہیں،مگر ماں ایک اور شخص کے ساتھ شادی کرکے چلی گئی۔

ماں سے بچھڑ جانے والے بچے عباس نے سوشل میڈیا پر پوسٹ ایک فوٹیج میں‌بتایا کہ اس کی ماں اور دیگر افراد غربت سے تنگ تھے۔ ماں نے شام میں کسی شخص کے ساتھ شادی کا بھی پروگرام بنا لیا تھا۔ عباس نے کہاکہ مجھے اس وقت صدمہ پہنچا جب ماں نے کہا کہ میں تمہیں تقدیر کےحوالے کرنے جا رہی ہوں۔

عباس نے اپنی ماں سے کہا کہ وہ اسے تنہا چھوڑ کر شام جانے کا فیصلہ تبدیل کرے مگر اس کی ماں اسے اکلوتا چھوڑکر شام جانے کا عزم کر چکی تھی۔ عباس نے کہا کہ اس کی ماں نے اسے کہا کہ "تمہاری بیماری تمہارا ہی مسئلہ ہے"۔ اس کے بعد ماں‌ نےعباس سے چھوٹے بیٹے قیس کو بھی اس کے پاس چھوڑ دیا اور خود چلی گئی۔ قیس محلوں کے اطراف سے روٹی کے ٹکڑے جمع کرتا،خود بھی کھاتا اور معذور بھائی کا پیٹ بھرتا۔

عباس نے مزید کہا کہ وہ جس کیمپ میں رہ رہےہیں،اس میں اب لوگ انہیں کھانے پینے میں مدد کررہےہیں۔ لوگوں نے انہیں پہننے کے لیے کپڑے بھی دیے ہیں۔

عباس اور قیس کی سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی فوٹیج کے بعد ان بچوں کی تلاش شروع کردی گئی تھی۔

ادھر عراقی وزارت خارجہ کے ترجمان احمد محجوب نے ایک بیان میں‌بتایا کہ سوشل میڈیا پرفوٹیج کے وائرل ہونے کے بعد عباس اور اس کے بھائی قیس کو شامی پناہ گزین کیمپ سے واپس عراق پہنچادیا گیاہے۔ اب دونوں بچے حکومت کی تحویل میں‌ہیں اور ان کی مناسب دیکھ بحال کی جا رہی ہے۔