.

شام : دیر الزور میں داعش کے خلاف آپریشن میں ‌14 شہری جاں‌ بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کی رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز دیر الزور شہر میں شدت پسند گروپ‌"داعش" کے خلاف جاری آپریشن کے دوران عالمی اتحادی فوج کی بمباری سے 14 عام شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔

انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے ادارے"آبزر ویٹری" کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ دیر الزرو میں اتحادی فوج کی بمباری میں 14 عام شہری جاں بحق ہوگئے۔

انسانی حقوق کے مندوب رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ مشرقی شام میں دریائے فرات کے اطراف میں ھجین، سوسہ اور شعفہ قصبوں میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کئے گئے جن کے نتیجے میں پانچ بچوں اور پانچ خواتین سمیت 14 عام شہری جاں بحق ہوگئے۔

رامی عبدالرحمان کاکہنا تھا کہ بمباری کے نتیجے میں بڑی تعداد میں مکانات اور رہائشی عمارتیں مسمار ہوگئی ہیں، جس کے نتیجے میں کئی افراد کے ان عمارتوں کے ملبے تلے دب جانےکا خدشہ ہے۔ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا بھی امکان ہے۔

انسانی حقوق آبزرور کےمطابق بمباری میں داعش کے 9 جنگجو بھی مارے گئے۔

اتحادی فوج کی طرف سے یہ بمباری ایک ایسے وقت میں می گئی ہے جب دو روز قبل سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے شمالی علاقے میں ترکی کی بمباری کے بعد داعش کے خلاف اپنے حملے روکنے کا اعلان کیا تھا۔

انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس کے مطابق مشرقی شام میں دریائے فرات کے مشرقی کنارے کے اطرف میں کرد جنگجوئوں پر مشتمل سیرین ڈیموکریٹک فورسز داعش کے خلاف سرگرم ہیں۔ حال میں کرد فورسز کے 600 جنگجوئوں نے داعش کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا تھا تاہم ترکی کی جانب سے کرد فورسز پر بمباری کے باعث داعش کے خلاف آپریشن میں تعطل پیدا ہوتا رہا ہے۔