.

اسرائیل کا "وزارتِ اُمورِ بیت المقدس" پر دھاوا، ملازمین کو کام کرنے سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک فلسطینی ذمّے دار نے بتایا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے اتوار کی صبح الرام قصبے میں بیت المقدس گورنری کے امور کے صدر دفتر پر دھاوا بول دیا۔ اس دوران متعدد دستاویزات ضبط کر لیے گئے اور ملازمین کو کام جاری رکھنے سے روک دیا گیا۔

فلسطینی حکومت میں بیت المقدس کے امور کے وزیر عدنان الحسینی نے بتایا کہ "اسرائیلی پولیس کی بھاری نفری نے اتوار کی صبح بزور طاقت گورنری کی عمارت پر دھاوا بول دیا۔ پولیس نے تین ملازمین پر تشدد کیا اور ساتھ ہی دستاویزات اور کمپیوٹر سی ڈیز کو قبضے میں لے لیا"۔

الحسینی کے مطابق اسرائیلی پولیس کے ساتھ موجود انٹیلی جنس اہل کاروں نے انہیں بتایا کہ وہ وزارت کے دفتر میں کام نہیں کر سکتے اور ان کا کام کرنا غیر قانونی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی نے القُدس گورنری کے علاوہ "وزارت امورِ بیت المقدس" کے نام سے ایک وزارت قائم کی تھی بیت المقدس سے ملحقہ قصبے الرام کو اس کے صدر دفتر کے طور پر چُنا تھا۔

فلسطینی وزیر کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیلی سکیورٹی فورس نے اس وزارت کے صدر دفتر پر دھاوا بولا ہے۔

فلسطینی حکومت کے سرکاری ترجمان یوسف المحمود نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ "امور بیت المقدس کی وزارت، القدس گورنری اور ملازمین پر وحشیانہ تشدد ،،، یہ قابض حکام کی خطرناک چڑھائی اور تمام بین الاقوامی سمجھوتوں اور قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے"۔