.

اسرائیل کی اردن کو سرحدی علاقوں کے معاملے پر مشاورت کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی حکومت نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اسے اسرائیل کی طرف سے ایک درخواست موصول ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عمان سنہ 1994ء کو دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدے تحت 25 سال کے لیے اسرائیل کو دیے گئے سرحدی قصبوں الباقورہ اور الغمر پر تل ابیب سے مشاورت کرے۔

اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "بترا" نے خاتون وزیر مملکت برائے اطلاعات جمانہ غنیمات کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو اسرائیل کی طرف سے ایک درخواست موصول ہوئی ہے جس میں صہیونی حکومت نے الغمر اور الباقورہ کی اراضی پر مشاورت کی اپیل کی ہے۔

خیال رہے کہ اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے اکتوبر کے اوائل میں ایک بیان میں کہا تھا کہ سرحدی علاقوں الباقورہ اور الغمر کے بارے میں اسرائیل سے طے پائے معاہدے کے مدت آئندہ سال ختم ہوجائے گئ۔ اور وہ اس میں مزید توسیع نہیں کریں‌گے۔

اردنی خاتون وزیرہ جو سرکاری ترجمان بھی ہیں کا کہنا تھا کہ عمان امن معاہدے کے مطابق اپنا قانونی حق استعمال کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اردن ملک وقوم کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھتےہوئے اقدامات کے ساتھ اسرائیلی حقوق کا بھی احترام کرے گا۔

قبل ازیں اردنی وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے 22 اکتوبر کو کہاتھا کہ ان کا ملک الباقورہ اور الغمر کی زمین اسرائیل واپس لینے کے لیے تل ابیب کے ساتھ مشاورت کرے گا۔

سرکاری ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے الصفدی نے کہا کہ عمان تل ابیب کے ساتھ صلاح مشورے کے لیے تیار ہے۔

خیال رہے کہ اردن اور اسرائیل کے درمیان سنہ 1994ء میں طے پائے امن معاہدے کے تحت اردن نے دو سرحدی قصبے الغمر اورالباقورہ 25 سال کے لیے اسرائیل کو لیز پر دے دیے تھے۔ معاہدے کے تحت یہ ڈیل آئندہ سال اکتوبر میں ختم ہوجائے گی۔ اسرائیل لیز کی مدت میں توسیع کا خواہاں ہے۔