.

عراق میں داعش کا نشانہ بننے والوں کی 200 سے زیادہ اجتماعی قبریں ملیں : اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے مطابق عراق میں جن علاقوں پر داعش تنظیم کا قبضہ رہا ، وہاں 200 سے زیادہ اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں۔

یہ بات عراق کی امداد کے لیے اقوام متحدہ کے مشن اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کے دفتر سے منگل کے روز جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں بتائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ہلاک شدگان میں بچے ، خواتین، عمر رسیدہ افراد اور معذورین کے علاوہ عراقی پولیس اور فوج کے اہل کار بھی شامل ہیں۔ خیال ہے کہ یہ لوگ جون 2014ء سے دسمبر 2014ء کے درمیان دہشت گرد تنظیم کا داعش کا نشانہ بنے جب تنظیم شمالی عراق میں ایک بڑے رقبے پر قابض تھی۔

رپورٹ میں عراقی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 202 اجتماعی قبروں میں زیادہ تر نینوی، کرکوک، صلاح الدین اور انبار صوبے میں پائی گئیں۔

اقوام متحدہ نے عراقی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان ٹھکانوں کو برقرار رکھا جائے تا کہ یہاں سے جرائم کے شواہد حاصل کیے جا سکیں اور لاپتا افراد کے اہل خانہ کو ان لوگوں کے انجام کے حوالے سے جواب دیا جا سکے۔

رپورٹ کے اندازے کے مطابق مذکورہ 202 اجتماعی قبروں میں لاشوں کی مجموعی تعداد 6 سے 12 ہزار کے درمیان ہو گی۔

تاہم حقیقی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس لیے کہ رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ کھدائی کے دوران 28 اجتماعی قبروں سے 1258 افراد کی باقیات نکالی گئیں۔ ان 28 میں 4 قبریں دیالی صوبے میں ، 23 صلاح الدین میں جب کہ ایک نینوی صوبے میں ہے۔

یاد رہے کہ جون 2014ء میں بھرپور حملے کے بعد داعش تنظیم نے عراق کے ایک تہائی حصّے پر قبضہ کر لیا تھا۔ ان میں زیادہ تر علاقے ملک کے شمال اور مغرب میں تھے۔