.

سلامتی کونسل غزہ کے حوالے سے اتفاق رائے تک پہنچنے سے قاصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی سلامتی کونسل نے منگل کے روز بند کمرے کا ایک اجلاس منعقد کیا جس کے دوران حالیہ دنوں میں غزہ پٹی میں دیکھی جانے والی عسکری جارحیت کو زیر بحث لایا گیا۔ تاہم سفارت کاروں کے مطابق کونسل کے ارکان محصور غزہ پٹی میں صورت حال کے تصفیے کے حوالے سے کسی بھی اتفاق رائے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

اقوام متحدہ میں فلسطین کے سفیر ریاض منصور کے مطابق کویت اور بولیویا کی درخواست پر منعقد یہ اجلاس 50 منٹ تک جاری رہا اور بنا کسی نتیجے کے اختتام کو پہنچا۔

منصور نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "سلامتی کونسل مفلوج ہے اور پرتشدد کارروائیاں روکنے کے حوالے سے اپنی ذمّے داری پوری کرنے میں ناکام ہو گئی۔ منصور کے مطابق "ایک ایسا ملک ہے جس نے بات چیت کا دروازہ بند کر دیا ہے"۔ فلسطینی سفیر کا اشارہ امریکا اور اسرائیل کے حوالے سے اس کے مواقف کی جانب تھا۔

سلامتی کونسل غزہ کی صورت حال کے حوالے سے کوئی مرکزی بیان جاری نہیں کر سکی ، اس لیے کہ یہ بیان تمام ارکان کی جانب سے متفقہ طور پر جاری کیا جاتا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ میں کویتی سفیر منصور العتیبی کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے زیادہ تر ارکان کے نزدیک کونسل کی جانب سے "کچھ کرنا" ناگزیر ہے۔ مثلا علاقے کا دورہ وغیرہ ،،، تاہم اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینون نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل کہا کہ "ہم فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کے مطالبے کو ہر گز قبول نہیں کریں گے"۔ سفیر کے مطابق ایک فریق شہریوں پر 400 راکٹوں سے حملہ کر رہا ہے جب کہ دوسرا فریق اپنے شہریوں کو بچانے کو کوشش کر رہا ہے۔

سلامتی کونسل کے مذکورہ اجلاس سے قبل غزہ پٹی میں فلسطینی گروپوں نے جن میں حماس سرفہرست ہے ، کہا تھا کہ مصر کے توسط سے اسرائیل کے ساتھ فائر بندی کا سمجھوتا طے پا گیا ہے۔ فلسطینی گروپوں کا کہنا تھا کہ جب تک اسرائیل جنگ بندی پر کاربند رہے گا تو وہ بھی اس کی پاسداری کریں گے۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے اس جنگ بندی کے حوالے سے سرکاری طور پر کوئی تصدیق نہیں کی۔

غزہ پٹی میں گزشتہ دو روز کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں سات فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔ یہ حملے اسرائیل پر راکٹ حملوں کے جواب میں سامنے آئے۔

حالیہ جارحیت کا آغاز اتوار کی شب اس وقت ہوا جب اسرائیلی فوج کی اسپیشل فورسز غزہ پٹی میں داخل ہو گئیں اور ان کی حماس کے ارکان کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔ فلسطینی گروپوں نے جوابی کارروائی میں اسرائیلی علاقوں پر سیکڑوں راکٹ اور مارٹر گولے داغے۔